.

صوبہ خیبرپختونخوا میں دو انتخابی امیدواروں پر بم حملے،16 افراد جاں بحق

ضلع ہنگو میں جے یوآئی کے صوبائی امیدوار پر بم حملے کے بعد کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں نے منگل کو دو انتخابی امیدواروں پر بم حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سولہ افراد جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبے کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں آج مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 43 سے امیدوار مفتی سید جنان پر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔حملہ آور بمبار نے ہنگو کے قصبے دوآبہ میں مفتی سید جنان کی کار کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار نے سید جنان کی تاجروں سے ملاقات کے موقع پر حملہ کیا تھا۔تاہم وہ محفوظ رہے ہیں اور انھیں معمولی زخم آئے ہیں۔دوسری جانب ہنگو کے ضلعی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ بم ایک موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا گیا تھا اور موٹرسائیکل کو ریلی کی جگہ کے قریب کھڑا کیا گیا تھا۔تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ اس کو کس ڈیوائس سے اڑایا گیا ہے۔

بم دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کر لیا۔زخمیوں کو دوآبہ ،ہنگو اور ٹل کے اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔دوآبہ بازار میں جے یو آئی کے انتخابی امیدوار پر بم حملے کے بعد ضلع ہنگو میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے ایک گھنٹے کے بعد صوبہ خیبر پختونوا کے شمال مغربی ضلع لوئر دیر میں سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوار کی ریلی میں بم دھماکا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع لوئر دیر کے ایک گاؤں بابا گام میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 96 سے پی پی پی کے امیدوار محمد ضامن خان کے بھائی ظاہر خان کی گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب بم سے اڑا دیا گیا۔بم دھماکے میں چھے افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور نگران وزیراعظم میر ہزار خاں کھوسو نے انتخابی امیدواروں پر بم حملوں کی مذمت کی ہے اور حکام کو انتخابی امیدواروں اور ان کے جلسے،جلوسوں کی سکیورٹی مزید سخت بنانے کی ہدایت کی ہے۔

سوموار کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں جے یو آئی کے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار حاجی منیر اورکزئی کے انتخابی جلسے میں بم دھماکا کیا گیا تھا۔اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چوبیس ہوگئی ہے۔بم دھماکے میں منیر اورکزئی کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 37 سے جے یو آئی کے امیدوار عین الدین شاکر سمیت ستر افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم دونوں انتخابی امیدواروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ہنگو اور لوئر دیر میں بم حملوں کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی لیکن گذشتہ روز کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے جے یو آئی کے جلسے میں بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ حملے میں منیراورکزئی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی کیونکہ وہ گذشتہ پانچ سال کے دوران پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل رہے تھے اور ان کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے تھے۔