.

خیبرپختونخوا،فاٹا میں بم دھماکے،بلوچستان میں فائرنگ:7 جاں بحق

تربت میں مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی پر فائرنگ اور میرعلی میں بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مہم کے آخری روز دہشت گردوں نے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی اور شمالی وزیرستان میں انتخابی ریلی پربم حملے کیے ہیں اور صوبہ بلوچستان میں ایک انتخابی امیدوار کو فائرنگ سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔جمعرات کو پیش آئے تشدد کے ان واقعات میں سات افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مانسہرہ شہر کے علاقے نصرت خیل میں پولیس کی ایک موبائل وین پر بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چار اہلکار جاں بحق ہوگئے۔قبل ازیں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں ایک انتخابی ریلی کے نزدیک بم دھماکا ہوا۔اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر صوبہ بلوچستان کے ضلع تُربت میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی انتخابی ریلی پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس سے دوافراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملے میں پی ایم ایل ن کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی50 سے امیدوار محمد اکبر عسکنی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔تاہم وہ محفوظ رہے ہیں۔

درایں اثناء صوبے کے بلوچ اکثریتی علاقوں قلات ، مستونگ ،خضدار ،تربت اور نوشکی میں عام انتخابات کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔اس موقع پر تمام کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ان شہروں میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے لیویز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

پاکستان بھر میں پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے ہفتے کے روز ووٹ ڈالے جائیں گے۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں نے سیاست دانوں ،انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں پرخودکش بم حملے کیے ہیں یا انھیں بم دھماکوں اور فائرنگ میں نشانہ بنایا ہے۔11 اپریل کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کم وبیش روزانہ ہی انتخابی دفاتر اور جلسے،جلوسوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔طالبان جنگجوؤں نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی سابق اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی تھی۔طالبان نے مذہبی سیاسی جماعت جمعیت العلماء اسلام ( جے یوآئی) کے انتخابی امیدواروں پر بھی اسی ہفتے خودکش بم حملے کیے ہیں حالانکہ انھوں نے عام انتخابات کے لیے مہم کے دوران اس جماعت کے حامیوں اور امیدواروں کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔