.

چاروں صوبوں میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 10 افراد جاں بحق

عام انتخابات کے لیے پولنگ سے ایک روز قبل تک تشدد کا سلسلہ جاری رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں عام انتخابات کے لیے پولنگ سے ایک روز قبل تک تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں سیاست دانوں،انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پر بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں جمعہ کی شب ایک بم دھماکا ہوا ہے جس میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے دو مقامی لیڈر مارے گئے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لانڈھی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔اورنگی ٹاؤن سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 95 سے آزاد امیدوار شکیل احمد بھی مقتولین میں شامل ہیں۔انھیں انتخابات میں مہاجرقومی موومنٹ حقیقی کی حمایت حاصل تھی اور وہ لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیوایم) کے مقابلے میں الیکشن لڑرہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق لانڈھی میں دو متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔واقعے کے فوری بعد علاقے میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند کردیے گئے اور پولیس اور رینجرز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔

کراچی میں عام انتخابات کے لیے 11 اپریل سے جاری مہم کے دوران تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے اور وہاں طالبان اور ایم کیو ایم کے جنگجوؤں پر تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔کراچی میں ایم کیوایم کو اس وقت تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور جماعت اسلامی کے قائدین شہر کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ادھر صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے بیلٹ پیپرز لے جانے والے ایک سرکاری قافلے پر راکٹوں اور ہلکے ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ایک مقامی عہدے دار کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے سرکاری قافلے پر راکٹ چلائے اور اس کے بعد فائرنگ کردی۔

درایں اثناء سکیورٹی فورسز نے انتخابات کے لیے پولنگ سے ایک روز قبل صوبے میں دہشت گردی کی ایک بڑی سازش ناکام بنا دی ہے۔فرنٹیئر کور نے ضلع پشین میں مہاجرکیمپ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی جانب لائی جانے والی بارود سے لدی ایک گاڑی برآمد کی ہے اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی ایک فیکٹری کو بھی سیل کردیا ہے۔فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ فورسز نے وہاں سے سات راکٹ ،بارودی سرنگیں اور گولہ وبارود کا بڑا ذخیرہ برآمد کیا ہے۔

کوئٹہ میں سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار عمر گورگیج کے ایک انتخابی دفتر پر جنگجوؤں کے حملے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق جنگجوؤں نے انتخابی دفتر کی چھت میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔بلوچستان کے شورش زدہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں انتخاب مخالف علاحدگی پسند جنگجوؤں نے تین پولنگ مراکز کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

انتخابی مہم کے دوران نسبتاً پُرامن رہنے والے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی آج انتخابات سے متعلق تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے اور ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل کامونکی میں پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن اور سابق کرکٹ اسٹار عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور دونوں جماعتوں کے لیڈر انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہِیں۔ان کے حامیوں میں اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں کافی جوش وخروش پایا جارہا ہے اور ان میں ہوش کے بجائے جوش کا جذبہ زیادہ غالب نظرآیا ہے جس کے پیش نظر ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس مرتبہ پنجاب میں ماضی کے برعکس پولنگ کے موقع پر لڑائی مارکٹائی کے علاوہ خونریزی کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔