.

کون بنے گا وزیر اعظم؟ نواز شریف کی 'وکٹری سپیچ'

قطعی اکثریت کے لئے کارکنوں کو دعا کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق مسلم لیگ [نواز] کو قومی اسمبلی کی نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

ابتدائی رجحانات کے مطابق دوسری پوزیشن کے لیے عمران خان کی تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔

تاہم مسلم لیگ [نواز] کے سربراہ میاں نواز شریف نے لاہور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی انتخابی نتائج آ رہے ہیں ’لیکن اب تقریباً تصدیق ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ نون اس انتخاب میں سب سے بڑی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے دعا کریں کہ حتمی نتائج میں نون لیگ کی مطلق اکثریت ہو تاکہ مسلم لیگ بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنا سکے۔‘

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون پشاور سے صوبے کی سابق حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے، ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان تھے۔غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق عمران خان کو اس حلقے سے واضح برتری حاصل تھی۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 راولپنڈی دو سے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کو بھاری ووٹوں سے شکست کا سامنا ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر منظور وٹو کو اوکاڑہ کے حلقہ این اے 146 اور 147 سے شکست کا سامنا ہے۔

شدت پسندوں کی جانب سے پُرتشدد کارروائیوں کی دھمکیوں کے باوجود امن و امان کی صورتِ حال مجموعی طور پر قابو میں رہی اگرچہ کراچی میں بم دھماکے میں دس افراد جان بحق ہوئے جبکہ کوئٹہ اور پشاور میں اسی طرح کے دھماکوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

ان انتخابات میں نوجوانوں کی بھر پور شرکت اور ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا تھا جبکہ کراچی میں قومی اسمبلی کے سات حلقوں میں پولنگ کے وقت میں تین گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔

بلوچستان میں کچھ اضلاع میں پولنگ ہوئی لیکن کچھ علاقوں میں پولنگ نہیں ہو سکی۔ صوبے میں جمہوری وطن پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا۔

بلوچستان کے علاوہ کراچی میں پولنگ کے دوران دھاندلی کی شکایات سامنے آئیں اور جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن نے ایم کیو ایم پر اسلحے کے زور پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کراچی میں الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ بعدازاں اس بائیکاٹ میں سنی تحریک اور مہاجر قومی موومنٹ بھی شامل ہوگئیں۔

ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کراچی کی حد تک صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں کامیاب نہیں ہوا اور اسی وجہ سے کراچی کے حلقہ این اے 250 میں 42 پولنگ مراکز پر پولنگ روک دی گئی۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں بھرپور ٹرن آؤٹ پر مبصرین کہتے ہیں کہ سنہ انیس سو ستر کے بعد شاید پہلی بار ٹرن آؤٹ بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ الیکشن کمیش کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ ساٹھ سے اسی فیصد تک ہو سکتا ہے۔