صدر اوباما کی پاکستانی عوام کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر مبارک باد

امریکا آیندہ حکومت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کام کرنے کو تیار ہے:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان میں پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر پاکستانی عوام کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن ان انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی حکومت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کام کرنے کو تیار ہے۔

صدر اوباما نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں پاکستان میں پارلیمانی انتخابات کی فاتح جماعت مسلم لیگ یا اس کے سربراہ میاں نواز شریف کا ذکر تو نہیں کیا۔البتہ یہ کہا ہے کہ ''میری انتظامیہ انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پاکستانی حکومت کے ساتھ برابری کی بنیاد تعاون جاری رکھنے کو تیار ہے تاکہ پاکستانی عوام کے مزید مستحکم ،محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے معاونت کی جاسکے''۔۔

انھوں نے گذشتہ روز پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر پاکستان کے عوام کو مبارک باد دی ہے۔انھوں نے کہا کہ'' ریاست ہائے متحدہ امریکا اس تاریخی، پرامن اور شفاف انداز میں شہری انتقال اقتدار کا خیر مقدم کرتا ہے اور یہ پاکستانی جمہوریت کی پیش رفت کی جانب اہم سنگ میل ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''متشدد انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود آپ نے مسابقتی مہم چلا کر اور اپنے جمہوری حقوق کا آزادانہ استعمال کرکے جمہوری طرز حکمرانی کے عزم کا اعادہ کردیا ہے اور یہ امر آنے والے برسوں میں تمام پاکستانیوں کے لیے امن اور خوش حالی کے حصول کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہوگا''۔

قبل ازیں پڑوسی حریف ملک بھارت کے وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو ان کی عام انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارک باد دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے"مسٹر نواز شریف اور ان کی جماعت کو پاکستان میں منعقدہ انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارک باد ہو''۔

انھوں نے میاں نواز شریف کو بھارت کے دورے کی دعوت دی ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ازسر نو تعلقات کا راستہ متعین کرنے کے لیے میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں کو تشدد کی دھمکیوں کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارک باد دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے ہفتے کے روز پولنگ اور اس سے قبل ایک ماہ تک تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں سیاست دانوں،انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پر بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔تشدد کے یہ واقعات اتوار کو انتخابات کے بعد بھی نہیں رکے اور صوبہ سندھ کے ضلع نواب شاہ میں دو متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کےدارالحکومت کوئٹہ میں انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کے گھر کے نزدیک بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر آئی جی بلوچستان مشتاق سکھیرا کے گھر کے قریب خود کش حملہ کیا گیا ہے اور زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کم وبیش روزانہ ہی انتخابی دفاتر اور جلسے،جلوسوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔طالبان جنگجوؤں نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی سابق اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی تھی۔طالبان نے مذہبی سیاسی جماعت جمعیت العلماء اسلام ( جے یوآئی) کے انتخابی امیدواروں پر بھی گذشتہ ہفتے کے دوران خودکش بم حملے کیے تھے حالانکہ انھوں نے عام انتخابات کے لیے مہم کے دوران اس جماعت کے حامیوں اور امیدواروں کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان کر رکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں