پاکستانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 60 فیصد رہی

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنا ووٹ کوئٹہ میں کاسٹ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر ‍ ف‍خرالدین جی ابراہیم نے ملک میں عام انتخابات کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ گیارہ م‍ئ کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فیصد رہی ہے۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب الیکشن کمشن آف پاکستان ہیڈ کوارٹرز میں سرکاری طور پر پہلے باضابطہ انتخابی نتیجے کے اعلان کرنے کے موقع پرفخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا جو عوام کی طاقت کا ایک اظہار ہے۔

الیکشن کے حوالے سے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشن نے پہلے دن کہا تھا کہ اگر امن وامان کی صورت حال بہتر رہی تو صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو گا۔ فخرالدین جی ابراہیم نے اس موقع پر مزید کہا کہ مرکزی اور صوبائی نگران حکومتوں،آرمی، رینجرزاور قانون نافز کرنیوالے ادارو‍ں نے مکمل تعاون کیا۔اسی وجہ سے وو‍ٹ ڈالنے کی شرح بہت زیادہ رہی۔

انہو‌‌‌ں نے کہا کہ یہ دوسرا مسلسل الیکشن تھا جو ایک من‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍تخب حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد ہوا۔ فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ عوام کو منتخب حکومت سے اچھی حکمرانی کی توقع ہے۔ انہوں نے کہ ’’یہ حکومت کا فرض ہے کہ عوام کو بہتر امن وامان مہیا کرے اور اچھی حکمرانی دے۔‘‘

ادھر ماضی کے بر عکس اس مرتبہ الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر دیکھی گئی اور گیارہ اور بارہ مئی کی درمیانی شب رات دو بجے خیبر پختونخواہ کے صرف ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے کا اعلان کیا گیا۔ دوسری جانب ملک کے نجی نیوز چینلوں میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے اعلان میں سبقت لے جانے کے لئے زبردست مقابلہ رہا۔ اس دوران تمام نیوز چینلز نے چوبیس گھنٹوں کی خصوصی نشریات کا اہتمام بھی کیا۔

ادھر شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں بھی سکیورٹی خدشات اور بلوچ کالعدم مسلح گرپوں کی دھمکیوں کے باوجود قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام متعلقہ نشستوں پر ووٹنگ میں عوام نے توقعات سے بڑھ کر شرکت کی۔

تاہم ووٹنگ کے دوران کوئٹہ، مستونگ، تربت بارکھان، نوشکی چمن اور دیگر علاقوں میں پولنگ اسٹیشوں اور سیاسی رہنماوں کے قافلوں پر بموں اور راکٹوں سے حملوں اور دیگر پر تشدد واقعات کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق جب کہ بیس سے زائد افراد زخمی ہو ئے جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 14 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر پولنگ یوں تو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں غیر متوقع طور پر اپنے مقررہ وقت پر صبح اٹھ بجے ہی شروع ہوئی تاہم بعض دورا افتادہ اضلاع خاران، واشک پنجگور، نوشکی، دالبندین اور دیگر کئی علاقوں میں پولنگ کے عملےاور انتخابی سامان کے پولنگ اسٹیشننوں پر تاخیر سے پہنچنے کے باعث پولنگ کا آغاز نو بجے شروع ہوا جو کہ بعد میں بلا تعطل شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی کوئٹے میں اپنا ووٹ ڈالا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹ کے استعمال سے ہی ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ عوام نے تبدیلی کے سفر میں جامع کرادر ادا کیا۔ ان کا مذید کہنا تھا، ’’گزشتہ پانچ چھ سالوں کے بعد تبدیلی آئی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم ہے اور آئین کی بالادستی کی وجہ سے ہی آج انتخابات منعقد ہوئے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ملک میں ’گوڈ گورننس‘ ہے۔ ’’جو بھی حکومت آئے وہ ملک اور عوام کی ترقی کے لئے کام کرے۔‘‘

مغربی صوبے بلوچستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے مجموعی طور پر1832 امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا جن میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے 1418 جب کہ قومی اسمبلی کے لئے 414 امیدوار شامل تھے۔

بلوچستان میں مجموعی طور کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 33 لاکھ 36 ہزار 359 ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر مردوں اور خواتین ووٹروں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی تاہم بعض علاقوں میں پولنگ کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی بھی شکایات سامنے آئیں۔

خیال رہے کہ صوبے میں امن کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں سات ہزار فوجی جب کہ مجموعی طورپر ایف سی، پولیس، لیویز، اور بلوچستان کانسٹبلری کے پچپن ہزار اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ اعلی حکام کوئٹہ میں قائم کئے گئےمرکزی کنٹرول روم جب کہ ضلعی افسران ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قائم کیے گئے کنٹرول رومز میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے رہے اور انتخابی عمل کی دن بھر فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں