انتخابات دھاندلیوں کے الزامات کی زد میں اور مسلم لیگ (نواز) کی جیت

کراچی، حیدرآباد میں حسبِ سابق بُلٹ کے سائے میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں اور فراڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان میں ہفتے کے روز ہونے والے عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز نے پارلیمان کے ایوان زیرِیں قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے اور اس کے امیدوار ایک سو بیس سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوگئے ہیں لیکن پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلیوں، فراڈ اور بے قاعدگیوں کی شکایات بھی منظرعام پر آئی ہیں۔

گذشتہ روز ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 272 عام نشستوں میں سے 269 پر ووٹ ڈالے گئے۔ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد آٹھ کروڑ اکسٹھ لاکھ نوے ہزار کے لگ بھگ تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فراہم کردہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح قریباً ساٹھ فی صد رہی ہے۔

اتوار کی شام تک غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی 125 نشستوں کے ساتھ پہلے، سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی 32 نشستوں کے ساتھ دوسرے اورسابق کرکٹ کپتان عمران خان کی جماعت تحریک انصاف 31 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔ جمعیت العلماء اسلام کے گیارہ، متحدہ قومی موومنٹ کے دس اور بیس سے زیادہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ دس سے پندرہ نشستیں دیگر جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تئیں ان عام انتخابات کو شفاف قرار دیا ہے اور اس کے بہ قول چند ایک جگہوں کے سوا ملک کے بیشتر علاقوں میں احسن انداز میں پولنگ ہوئی ہے لیکن بیشتر سیاسی جماعتوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی شکایات کی ہیں اور انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ وہاں مسلح افراد نے پولنگ عملے اور اسٹیشنوں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور وہ بلاخوف وخطر بیلٹ پیروں پر ایک مخصوص جماعت کے امیدواروں کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتے رہے تھے۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد میں بعض پولنگ مراکز پر بیلٹ پیپروں پر بڑے منظم انداز میں مہریں لگانے کی ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی ویڈیو میں دو چار لوگ کراچی میں ایک پولنگ اسٹیشن میں پولیس کی نگرانی میں بیلٹ پیپروں پر مہریں لگا کر انھیں بیلٹ باکس میں ڈال رہے ہیں۔ حیدرآباد میں بھی اسی طرح بعض خواتین قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں بیلٹ پیپروں پر مہریں لگا کر بیلٹ باکس میں ڈال رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ روز کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 میں انتخابی عملے کو یرغمال بنائے جانے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو کراچی اور حیدرآباد میں قومی اسمبلی کے چھے حلقوں سے بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ این اے 250 میں پولنگ مراکز میں لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈلوانے کی کھلے عام ''وارداتوں'' کے بعد الیکشن کمیشن نے تینتالیس پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کا اعلان کر دیا تھا لیکن اس نے ان تمام حلقوں کے انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دیا ہے اور نہ نتائج کو منسوخ کیا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے مسلح حامیوں کی جانب سے اپنے امیدواروں کے حق میں دیدہ دلیری کے ساتھ ووٹ ڈلوانے، پولنگ مراکز پر قبضے اور انتخابی عملے کو یرغمال بنائے جانے کے بعد مذہبی سیاسی جماعت جماعت اسلامی، متحدہ دینی محاذ اور سنی تحریک نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ان دونوں شہروں میں ان جماعتوں کو قومی اسمبلی کی چار پانچ نشستوں پر کامیابی کی توقع تھی لیکن ان کے حامی ووٹروں کے ووٹ ان کے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے سے قبل ہی پول ہو چکے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ کراچی سے قومی اسمبلی کے کم سے کم دس حلقوں میں ایم کیو ایم کے امیدواروں کے حق میں ایک سے دو لاکھ تک ووٹ ڈالے گئے ہیں اور ان کے مخالف امیدواروں کے صرف پانچ سے دس ہزار ووٹ نکلے ہیں۔

کراچی میں مذکورہ جماعتوں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی دھاندلیوں کی شکایات کی ہیں اور اس کی قیادت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بروقت اطلاع دیے جانے کے باوجود اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب دینی جماعتیں کراچی میں انتخابی نتائج کو منسوخ کرنے اور وہاں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

پی ٹی آئی نے کراچی کے علاوہ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی پولنگ کے دوران فراڈ اور بے ضابطگیوں کی شکایات کی ہیں۔اس جماعت کے لیڈروں نے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنی واضح جیت کے دعوے کیے تھے لیکن انتخابی نتائج اس کے حق میں نہیں رہے ہیں اور وہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی صرف تین چار نشستیں ہی حاصل کرسکی ہے۔

پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے بیشتر اضلاع میں تمام نشستوں پر واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے امیدواروں اور پی ٹی آئی کے دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کے ووٹوں میں چالیس سے پچاس ہزار کا فرق ہے لیکن اس کے باوجود نیا پاکستان بنانے کی دعوے دار پی ٹی آئی کے عہدے دار یہ کہہ رہے ہیں کہ پولنگ میں دھاندلیوں کے ذریعے سے اس کی فتح کو شکست میں تبدیل کیا گیا ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کے لیڈروں نے پی ٹی آئی کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جماعت اب زمینی حقائق کا سامنا کرے اور الزام تراشی کی سیاست کے سائے سے باہر نکل آئے۔

عمران خان نے دم تحریر پاکستان مسلم لیگ کی فتح کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ انھوں نے جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف کو ان کی انتخابی کامیابی پر مبارک باد کی ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں ایک ٹھوس حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی کیونکہ ان کے بہ قول گذشتہ ایک عشرے کے دوران ملک میں دوستانہ اپوزیشن رہی ہے۔انھوں نے اسپتال سے جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ تحریک انصاف انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں ایک قرطاس ابیض شائع کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں