کراچی میں انتخابی بے ضابطگیوں کا تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن طلب

شہر میں دفعہ 144 نافذ،ہرقسم کے سیاسی اجتماعات اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہفتے کے روز عام انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر فراڈ ،دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں ،ریٹرننگ افسروں اور ڈی پی اوزسے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ کے بعد مختلف جماعتوں کی جانب سے سامنے آنے والی دھاندلیوں کی شکایات کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 میں آیندہ سات سے دس روز میں انتخابات کرائے جائیں گے۔

درایں اثناء صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ نے کراچی میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے تحت شہر میں ہرقسم کے سیاسی اجتماعات اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی عاید کردی ہے اور لائسنسی ہتھیار لے کر چلنے کے اجازت نامے بھی منسوخ کردیے ہیں۔

نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے ملک میں تاریخی عام انتخابات کے احسن انداز میں انعقاد پر ریاست کے تمام اداروں کے کردار اور کاوشوں کو سراہا ہے۔انھوں نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اگر کسی کو انتخابات سے متعلق کوئی شکایات ہیں یا تحفظات ہیں تو ان کو ازالے کے لیے الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لایا جائے اور کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی ایسا بیان جاری نہیں کرنا چاہیے جس سے تشدد کو شہ مل سکتی ہو۔

پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے اتوار کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع تین تلوار چوک میں 11 مئی کو پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر فراڈ اور دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور اس مظاہرے میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کے حامیوں نے بھی شرکت کی تھی۔

تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں نے کراچی میں فراڈ اور دھاندلیوں کی شکایات کی ہیں اور انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ وہاں مسلح افراد نے پولنگ عملے اور اسٹیشنوں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور وہ بلاخوف وخطر بیلٹ پیروں پر ایک مخصوص جماعت کے امیدواروں کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتے رہے تھے۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہرحیدرآباد میں بھی مسلح اور غیر مسلح افراد مبینہ طور پر لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں کے حق میں دیدہ دلیری کے ساتھ ووٹ ڈلواتے رہے تھے۔انھوں نے بعض پولنگ مراکز پر قبضہ کر لیا تھا اور انتخابی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ان دونوں شہروں میں فراڈ اور دھاندلیوں کے بعد مذہبی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی ،متحدہ دینی محاذ اور سنی تحریک نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

میڈیا کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد میں بعض پولنگ مراکز پر بیلٹ پیپروں پر بڑے منظم انداز میں مہریں لگانے کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی ویڈیو میں دوچار لوگ کراچی میں ایک پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ پیپروں پر مہریں لگاکر انھیں بیلٹ باکس میں ڈال رہے ہیں۔حیدرآباد میں بھی اسی طرح بعض خواتین ایک پولنگ مرکزمیں بیلٹ پیپروں پر مہریں لگا کر بیلٹ باکس میں ڈال رہی ہیں اور اس عمل کے دوران پولیس اور انتخابی عملہ کے ارکان خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں