.

میاں نواز شریف کی جذبۂ خیرسگالی کے تحت عمران خان سے ملاقات

تحریک انصاف کے سربراہ کی صحت یابی پر دوستانہ کرکٹ میچ کھیلنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے سیاسی حریف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کی ہے اور ان سے ان کی خیریت دریافت کی۔

عمران خان لاہور میں تعمیر کردہ اپنے شوکت خانم کینسر اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔وہ گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے تین روز قبل لاہور میں ایک انتخابی جلسہ گاہ میں اسٹیج پر چڑھتے ہوئے لفٹر سے گر کر شدید زخمی ہوگئے تھے۔میاں نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران پیدا ہونے والی شکررنجیوں اور تناؤ کو دور کرنے کے لیے عمران خان کے پاس چل کر گئے،ان کی بیمار پرسی کی اور انھیں گل دستہ پیش کیا۔

میاں نواز شریف نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ملاقات ایک اچھے ماحول میں ہوئی ہے۔امید ہے کہ عمران خان بہت جلد اپنا کام شروع کردیں گے۔اللہ کا شکرہے کہ وہ بہتر ہیں اور وہ تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے اپنی صفوں میں آنے والی دراڑوں اور شکررنجیوں کو بھول جانے پر زوردیا ہے اور میں نے عمران خان کو انتخابات میں بہت سی نشستیں جیتنے پر مبارک باد دی ہے''۔انھوں نے خوشگوار انداز میں کہا کہ اب ہمارے درمیان دوستانہ میچ ہوگا اور وہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی مکمل صحت یابی پر دوبارہ ان سے ملاقات کریں گے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام پاکستان میں ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے انتخابی نتائج پر تحفظات کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ''ہم تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور انھیں بھی ایسا کرنا چاہیے''۔

واضح رہے کہ میاں نوازشریف نے گذشتہ ہفتے عمران خان کے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے کے فوری بعد اپنی انتخابی مہم ایک روز کے لیے ملتوی کردی تھی اور عمران خان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا اور انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی تھی۔انھوں نے اپنے پارٹی کارکنان کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف اشتہارات کو بھی فوری طور پر روک دیں۔

عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت کی قیادت نے حکومت سازی کے عمل میں دوسری جماعتوں کو بھی شریک کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانا عمران خان کی تحریک انصاف کا حق ہے۔پی ٹی آئی نے اس صوبے کی اسمبلی کی پچانوے میں سے پینتیس نشستیں حاصل کی ہیں۔اس سے طرح وہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔