مالاکنڈ میں دومساجد کے باہر بم دھماکے،15 افراد جاں بحق

عام انتخابات کے بعد دہشت گردی کا بڑا واقعہ ،کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں دومساجد کے باہر بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں پندرہ افراد جاں بحق اور کم سے کم ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

مالاکنڈ کے علاقہ بازدرہ کی جامع مسجد اور بار کلے کی مسجد کے باہر نماز جمعہ کے وقت دونوں بم دھماکے ہوئے ہیں۔مالا کنڈ کے ڈپٹی کمشنر امجد علی نے دونوں بم دھماکوں میں پندرہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بم حملوں میں اہل سنت کی دونوں مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک مسجد شہید ہوگئی ہے جبکہ دوسری کو شدید نقصان پہنچاہے۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بازدرہ میں بم دھماکے کے بعد مسجد کی چھت نیچے بیٹھ گئی اور نمازی اس کے ملبے تلے دب گئے۔امدادی کارکنان وہاں سے زخمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کونکالنے کی کوشش کررہے تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ پلائی اسپتال میں بارہ لاشیں لائی گئی ہیں اور ایک سو میں سے تیس زخمیوں کو وہاں منتقل کیا گیا ہے جبکہ باقی زخمیوں کو درگئی اور مردان کے اسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے بم دھماکوں کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور درگئی اور مردان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

فوری طور کسی گروپ نے ضلع مالاکنڈ میں ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں لیکن ماضی میں کالعدم تحریک طالبان سے وابستہ جنگجو دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات کی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں۔طالبان جنگجوؤں نے گیارہ مئی کو ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے موقع پر حملوں سے گریز کیا تھا اور انتخابات کے بعد ملک کے کسی علاقے میں دہشت گردی کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں