برطانوی وزیراعظم نے پاکستانیوں کے مظاہرے کا نوٹس لے لیا

سیکڑوں پاکستانیوں کا 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر الطاف مخالف مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر سیکڑوں پاکستانیوں کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے جلاوطن قائد الطاف حسین کے پاکستان میں حالیہ ٹیلی فونک خطاب کے خلاف احتجاج کا نوٹس لے لیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور دوسرے گروپوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں کارکنان کے علاوہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے وزیر اعظم کی سرکاری قیام گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس دوران مسٹر ڈیوڈ کیمرون اپنی قیام گاہ سے باہر آئے اور انھوں نے پانچ منٹ تک مظاہرہ دیکھا اور عملے سے پی ٹی آئی کے زیر انتظام مظاہرے کے شرکاء کے مطالبات کے بارے میں دریافت کیا۔

مظاہرے میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد شریک تھے۔ وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے حالیہ دھمکی آمیز خطاب کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ انھوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانیہ سے پاکستان میں کسی بھی سیاسی گروہ کی جانب سے مداخلت اور لوگوں کو اشتعال دلانے والوں کے خلاف پابندی عاید کرے۔

سخت گیر اور اپنے مخالفین کو تشدد سے ڈرانے دھمکانے کی شہرت کی حامل جماعت ایم کیو ایم کے جلاوطن قائد نے گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات کے ابتدائی نتائج منظرعام پر آنے کے بعد اتوار کی رات اپنے حامیوں سے ٹیلی فونک خطاب کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر کسی کو ان کی جماعت کا عوامی مینڈیٹ قبول نہیں تو کراچی کو باقی ملک سے الگ کر دیا جائے۔

الطاف حسین کے ملک توڑنے کے خلاف اس بیان پر سماجی روابط کی ویب سائٹس پر پاکستانیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور لندن میں مقیم پاکستانیوں نے گذشتہ سوموار کو بھی ان کے خلاف پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ عوام کے شدید ردعمل کے بعد الطاف حسین حسب سابق اپنے بیان سے پھر گئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ ان کے بیان کا سیاق وسباق سے ہٹ کر غلط مطلب اخذ کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی تھی حالانکہ ان کا ٹیلی فونک خطاب پاکستان کے متعدد ٹی وی چینلوں نے براہ راست نشر کیا تھا اور کروڑوں ناظرین نے ان کے اس دھمکی آمیز خطاب کو براہ راست سنا تھا۔ لندن پولیس کو الطاف حسین کے خلاف ڈھیروں شکایات موصول ہوئی ہیں۔

لندن میں اس مظاہرے سے ایک روز قبل ہی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عمران خان کی تحریک انصاف کی خاتون رہ نما زہرا شاہد حسین کو ان کے گھر کی دہلیز پر قتل کردیا گیا تھا۔اس واقعہ کے بعد ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ایک مرتبہ پھر لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے اور دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کیے ہیں۔

عمران خان نے الطاف حسین کو براہ راست ان کے قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول انھوں نے اپنی تقریروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور لیڈروں کو قتل کی دھمکیاں دی تھیں۔دوسری جانب ایم کیو ایم نے عمران خان کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے اور اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں۔

درایں اثناء لندن پولیس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی جماعت کے کارکنان کی گرفتاری کی تردید کردی ہے۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ سیاسی جماعت ( ایم کیو ایم) کے بعض کارکنان کو لندن میں اس کے سابقہ کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے پراسرار قتل کے شُبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں