کراچی: این اے 250 میں دوبارہ پولنگ،پی ٹی آئی کے امیدوار کی برتری

متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کا 43 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 اور اس میں آنے والے صوبہ سندھ کی اسمبلی کے دو حلقوں پی ایس 112اور پی ایس113 کے تینتالیس پولنگ اسٹیشنوں پر آج دوبارہ ووٹ ڈالے گئے۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے قومی اسمبلی کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو برتری حاصل ہے۔

کراچی میں ان پولنگ مراکز پر گیارہ مئی کو عام انتخابات کے موقع پر گڑ بڑ اور بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی شکایات کے بعد پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔آج وہاں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔ دم تحریر پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری تھی اور تحریک انصاف کے امیدوار عارف علوی اور دونوں صوبائی نشستوں پر ان کی جماعت کے امیدواروں کو برتری حاصل تھی۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ، سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایران نواز مجلس وحدت المسلمین نے اس حلقے میں دوبارہ پولنگ کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ ایم کیو ایم نے پورے حلقے میں از سرنو پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کو مسترد کر دیا تھا۔

اس حلقہ کے ان پولنگ اسٹیشنوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد چھیاسی ہزار تھی۔ تاہم آج ووٹ ڈالنے کی شرح گیارہ مئی کے مقابلے میں کہیں کم رہی ہے۔اس حلقہ سے ڈاکٹر عارف علوی کے مقابلے میں ایم کیوایم کی خوش بخت شجاعت ،جماعت اسلامی کے سابق ناظم اعلی ٰ کراچی نعمت اللہ خان ،پیپلز پارٹی کے راشد ربانی اور مسلم لیگ فنکشنل کے کامران خان امیدوار تھے۔

دوبارہ پولنگ کے موقع پر کراچی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھَے اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔اس سے ایک روز قبل ہی تحریک انصاف کی صوبہ سندھ کی سنئیر نائب صدر زہرا شاہد حسین کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔حکام اور ان کی جماعت نے واقعہ کو ''اہدافی قتل'' قرار دیا ہے۔ان کے قتل کے بعد ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں