.

بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں پرویز مشرف کی ضمانت منظور

عدالت عظمیٰ میں سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 22 مئی تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور کر لی ہے جبکہ عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی ہے۔

سابق صدر کے وکیل نے سوموار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ۔عدالت میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹر اظہر چودھری نے سابق صدر کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔

اس پر عدالت کے جج حبیب الرحمان نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا اور تھوڑی دیر کے بعد دس لاکھ روپے مالیت کے دو مچلکے جمع کرانے کے عوض پرویز مشرف کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔تاہم اس کیس میں ضمانت کے باوجود وہ آزاد نہیں ہوسکیں گے کیونکہ ان کے خلاف تین اور بڑے مقدمات بھی چلائے جارہے ہیں۔

ادھر سپریم کورٹ میں آج جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دورکنی بنچ نے سابق مطلق العنان صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے دوران سماعت کہا کہ اس کیس میں پارلیمان کا نقطہ نظر بڑی اہمیت کا حامل ہے اور وہ پہلے ہی غداری کے مقدمات میں سزائیں دینے کے لیے قانون سازی کرچکی ہے۔اس لیے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو غداری کے کیس میں درخواست گزار ہونا چاہیے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔عدالت عظمیٰ نے مقدمے کی مزید کارروائی بائیس مئی تک ملتوی کردی ہے۔

سابق فوجی صدر 19 اپریل سے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع اپنے محل نما فارم ہاؤس میں جوڈیشیل ریمانڈ پر قید ہیں اور ان کی قیام گاہ کو حکام نے عارضی سب جیل قرار دے رکھا ہے۔ مارچ میں بیرون ملک سے پاکستان واپسی کے بعد سے انھیں عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے۔

گیارہ مئی کو پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات میں میاں نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ مک مکا کر کے انھیں بیرون ملک بھیجا جاسکتا ہے لیکن سابق صدر کے وکیل احمد رضا قصوری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے موکل عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں گے اور وہ ان شاء اللہ ان میں باری باری بری ہوجائیں گے۔