تحریکِ انصاف کا طالبان سے مذاکرات کے لیے مولانا سمیع الحق سے رابطہ

متوقع وزیراعظم میاں نوازشریف کا قیام امن کے لیے طالبان سے بات چیت پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بعد ان کے سیاسی حریف عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے بھی طالبان جنگجوؤں سے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے بزرگ عالم دین مولانا سمیع الحق سے مدد طلب کر لی ہے۔

تحریک انصاف گیارہ مئی کو پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری ہے اور وہ وہاں دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت تشکیل دے رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں وفد نے اکوڑہ خٹک (ضلع نوشہرہ) میں دارالعلوم حقانیہ میں مولانا سمیع الحق سے سوموار کی رات ملاقات کی ہے اور ان سے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار طالبان جنگجوؤں سے سلسلۂ جنبانی شروع کرنے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔

مولانا سمیع الحق پاکستانی اور افغان طالبان کے روحانی باپ قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ طالبان کی اکثریت انہی کے دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہے اور اس ناتے سے وہ طالبان پر اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی طالبان سے امن مذاکرات اور جنگ زدہ افغانستان میں مختلف جنگجو گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔

عمران خان طالبان جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور ان سے مذاکرات پر زور دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں امن قائم کرکے اس کو پورے ملک کے لیے رول ماڈل بنائیں گے اور وہاں مثالی حکومت قائم کریں گے لیکن ان کا یہ نیک عزم اور خواب طالبان سے امن قائم کیے بغیر پورا نہیں ہوسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے نومنتخب رکن شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ''ہم صوبے میں قیام امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کریں گے اور ان کی مولانا سمیع الحق سے ملاقات بھی اسی عمل کا حصہ تھی''۔

مولانا کے بیٹے سابق رکن اسمبلی حامدالحق حقانی نے بتایا کہ '' نامزد وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں وفد نے صوبے میں قیام امن کے لیے مولانا سمیع الحق سے کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے جس کے جواب میں انھوں نے قیام امن اور طالبان سے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہامی بھری ہے''۔

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور امن کا قیام ان کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے بھی اس ضمن میں مولانا سمیع الحق سے ہی کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔

مختلف جنگجو گروپوں پر مشتمل کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے فروری میں (سابق) حکومت اور فوج کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ غیر مسلح نہیں ہوں گے۔طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے ایک ویڈیو پیغام میں سابق حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور کہا تھا کہ ''ہم بات چیت میں یقین رکھتے ہیں لیکن یہ بے مقصد نہیں ہونی چاہیے اور ہمیں ہتھیار ڈالنے کے لیے کہنا ایک مذاق ہوگا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم جمہوری نظام کے خلاف ہیں کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے۔ہماری جنگ کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ غیراسلامی نظام اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ہے''۔

واضح رہے کہ طالبان کی 2007ء سے جاری اس ''جنگ'' میں چھے ہزار سے زیادہ عام پاکستانی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ان کے حملوں میں مارے گئے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے دوران بھی طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں نے حملے جاری رکھے تھے اور ان حملوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

طالبان نے حکیم اللہ محسود کی مذکورہ پیش کش کے بعد میاں نواز شریف ،جمعیت علماء اسلام (ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن کی ثالثی میں حکومت اور فوج کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن ساتھ ہی انھوں نے سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے لیڈروں اور کارکنوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔طالبان کے خودکش بم حملوں میں اے این پی کے سنئیر صوبائی وزیر بشیر بلور سمیت متعدد چھوٹے بڑے لیڈر مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں