.

عمران خان ہسپتال سے ڈسچارج، ڈاکٹروں کا مزید دو ہفتے آرام کا مشورہ

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر میڈیا سے بات نہ کر سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکسستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور کے شوکت خانم ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ ڈسچارج کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے وہ میڈیا سے بات نہ کرسکے۔

ڈاکٹروں نے عمران خان کو مزید دو ہفتے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران وہ باقائدگی سے فزیوتھراپی کرواتے رہیں گے، تاہم مکمل طور پر صحتیابی کے لیے مزید چھے سے آٹھ ماہ درکار ہیں۔

ہسپتال میں عمران خان کا علاج کرنے والی میڈیکل ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان اب کسی کی مدد کی بغیر خود سے چل سکتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمران خان لاہور میں تین روز قیام کرنے کے بعد دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔

یاد رہے کہ عمران خان عام انتخابات سے چار روز قبل سات مئی کو لاہور میں ایک جلسے کے دوران اسٹیج پر چڑھتے ہوئے لفٹر سے گر کر شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق عمران خان کے سر کے پچھلے حصے پر چوٹیں آئیں تھیں۔

عمران خان کو پہلے فضل اسپتال لبرٹی لےجایا گیا تھا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، لیکن بعد میں انہیں شوکت خانم اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا مکمل معائنہ کیا گیا۔