.

چینی وزیراعظم کی پہلے دورۂ پاکستان پر اسلام آباد آمد

''چین،پاکستان دوستی'' کا درخت بہ کثرت پھل دے رہا ہے:لی کی چیانگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ پاکستان کے پہلے دو روزہ دورے پر بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو سراہا ہے۔

راول پنڈی میں نورخان ائیربیس پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور نگران وزیراعظم میرہزار خان کھوسو نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کا خیرمقدم کیا۔انھوں نے اپنی آمد پر کہا کہ ''چین اور پاکستان کی دوست کا درخت کئی عشرے قبل لگایا گیا تھا۔بعد میں آنے والے لیڈروں نے اس درخت کی نگہداشت کی اور اب یہ بہ کثرت پھل دے رہا ہے''۔

چینی وزیراعظم کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان توانائی ،ٹیکنالوجی اور خلائی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط ہوں گے۔لی کی چیانگ کی آمد پر صدر آصف علی زرداری نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔اس موقع پر تقریر میں انھوں نے کہا کہ ''چین کے ساتھ دوستی ہماری خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے''۔

ظہرانے میں دوسروں کے علاوہ متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف بھی موجود تھے۔ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نے گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔میاں نواز شریف پاکستانی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس ضمن میں وہ چین سے دوستی کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔

لی کی چیانگ نے مارچ میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا اور وہ اپنے غیرملکی دورے کے پہلے مرحلے میں بھارت پہنچے تھے۔انھوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے کے خاتمے اور دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا۔

انھوں نے بھارت اور چین کے درمیان تجارتی حجم کو 2015ء تک ایک سوارب ڈالرز سالانہ تک بڑھانے سے اتفاق کیا۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ساڑھے اکسٹھ ارب ڈالرز ہے۔

بھارت کی طرح پاکستان بھی چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت کوبڑھانا چاہتا ہے لیکن ان دونوں ممالک کا تجارتی حجم کہیں کم ہے اور سال 2012ء میں تجارتی حجم بارہ ارب ڈالرز سے تھوڑا زیادہ رہا تھا۔اب پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ تین سال میں دوطرفہ تجارت پندرہ ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

واضح رہے کہ چین نے اسی سال پاکستان کی جنوب مغرب میں واقع گوادر بندرگاہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔بحیرہ عرب پر واقع یہ بندرگاہ جنوبی ایشیا،وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے۔اس سے چین کو مشرق وسطیٰ اور اس سے ماورا افریقی اور یورپی ممالک سے تجارت کے لیے رسائی ملے گی اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے علاوہ پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے میں بھی مدد ملے گی۔