میاں نوازشریف کی مذاکراتی پیش کش پرردعمل قبل از وقت ہوگا:طالبان

جنگجوؤں کا مجوزہ امن بات چیت کا جواب دینے کے لیے لائحہ عمل پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن کہا ہے کہ اس پر ردعمل قبل از وقت ہوگا۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے اپنے جاننے والے صحافیوں سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی جانب سے مجوزہ امن مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ ایک مثبت اشارہ ہے اور ان کی جنگجو تنظیم مذاکرات کی پیش کش کا جواب دینے کے لیے لائحہ عمل وضع کررہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ میاں نواز شریف کی حکومت کے قیام کے منتظر ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں کیا پالیسیاں اختیار کرتے ہیں''۔

قبل ازیں تحریک طالبان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اگر نئی حکومت مذاکرات کی پیش کش کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو جنگ بندی کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مزید برآں احسان اللہ احسان نے کوئٹہ میں آج ہونے والے بم دھماکے کی ذمے داری بھی قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ بلوچستان میں مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے ان کے جنگجوؤں کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور امن کا قیام ان کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے اس ضمن میں بزرگ عالم دین مولانا سمیع الحق سے کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔

ان کے بعد ان کے سیاسی حریف عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے بھی طالبان جنگجوؤں سے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے بزرگ عالم دین مولانا سمیع الحق سے مدد طلب کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز نے گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں پارلیمان میں اکثریت حاصل کی ہے اور تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری ہے اور وہ وہاں دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت تشکیل دے رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں وفد نے اکوڑہ خٹک (ضلع نوشہرہ) میں دارالعلوم حقانیہ میں مولانا سمیع الحق سے گذشتہ سوموار کو ملاقات کی تھی اور ان سے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار طالبان جنگجوؤں سے سلسلۂ جنبانی شروع کرنے کے لیے تعاون کی درخواست کی تھی۔

مولانا سمیع الحق پاکستانی اور افغان طالبان کے روحانی باپ قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ طالبان کی اکثریتی انہی کے دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہے اور اس ناتے سے وہ طالبان پر اچھا خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستانی اور افغان طالبان سے امن مذاکرات اور جنگ زدہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مختلف جنگجو گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔وہ جمعیت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ ہیں اور نوّے کے عشرے میں میاں نواز شریف کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت میں بھی شامل رہے تھے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں