طالبان کی پرویز مشرف کو قتل کرنے کی دھمکی کا اعادہ

سابق صدر اپنے فارم ہاوس میں متعدد مقدمات کے تحت نظر بند ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے ایک بار پھر سابق صدرِ جنرل (ر) پرویز مشرف کو قتل کرنے دھمکی دی ہے۔ مشرف اس وقت پاکستان میں کئی مقدمات کے سلسلے میں قید ہیں اور انہیں راولپنڈی کے قریب چک شہزاد میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر نظر بند کیا گیا ہے۔

اتوار کے روز طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جلد ہم اس شیطان کو اس کے برے اعمال کے بدلے موت کی سزا دیں گے۔

پرویز مشرف 19 اپریل سے قید ہیں ۔ ان پر سابق وزیرِ اعظم پاکستان ، بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش، بلوچستان کے بزرگ رہنما نواب اکبرخان بگٹی کے قتل اور 2007 ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزامات ہیں۔

مارچ کے مہینے میں پرویز مشرف کی آمد سے قبل بھی ٹی ٹی پی نے 'دہشتگردی کیخلاف جنگ' میں امریکی اتحادی ہونے اور عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن کی وجہ ان کے قتل کا اعلان کیا تھا۔

مشرف اس وقت طالبان کی ہٹ لسٹ پر آئے جب ان کے حکم پر سیکیورٹی فورسز نے 2007 میں لال مسجد میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں محتاط اندازے کے مطابق ایک سو افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد ملک میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا۔

احسان اللہ احسان نے الزام لگایا کہ بلوچستان سے وزیرِستان تک، مشرف نے ملک کو آگ اورخون میں دھکیل دیا ہے، وہ لال مسجد کے سینکڑوں بے گناہ طالبعلموں کا قاتل ہے۔

بدھ کے روز عدالت نے پرویز مشرف کو ججوں کو محصور رکھنے کے مقدمے میں ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے قبل بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ان کی ضمانت ہوگئی تھی ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پرویز مشرف کے گھر کے باہر بارود بھری گاڑی بھی ملی تھی جس کا ہدف مشرف تھے۔ پرویز مشرف 1999 نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں