.

نو منتخب قومی اسمبلی کا اقتتاحی اجلاس یکم جون کو طلب

اسپیکراور ڈپٹی اسپیکر 3 جون اور نئے وزیراعظم کا انتخاب 4 جون کو ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نومنتخب قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس یکم جون بروز ہفتہ طلب کر لیا گیا ہے اور اس روز نومنتخب اراکین اپنی رکنیت کا حلف اٹھائیں گے۔

صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان (وزیراعظم) کے انتخاب کے لیے شیڈول کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے دوجون کو کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے جبکہ انتخاب تین جون ہوگا۔

پارلیمان کے ایوان زیریں کے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے چار جون کو کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے اور وزیراعظم کا انتخاب پانچ جون کوہوگا۔اس کے بعد قومی اسمبلی کا سالانہ بجٹ اجلاس سات جون کو ہوگا جس میں توقع ہے کہ مسلم لیگ کے سینیٹر اسحاق ڈار وزیرخزانہ کی حیثیت سے آیندہ مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے۔

پاکستان میں گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے اتوار اپنے سربراہ میاں نواز شریف کو باضابطہ طور وزیراعظم نامزد کیا ہے۔وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے ملک کے پہلے سیاستدان ہوں گے۔

ان کے مقابلے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بزرگ سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔تاہم سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی نے ابھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا فیصلہ نہیں کیا۔اس جماعت کے بعض لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ میاں نوازشریف کی حمایت کریں گے۔البتہ ابھی انھوں نے اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

پی ایم ایل-این نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے اور کسی دوسری جماعت کی حمایت کے بغیر بھی وہ میاں نواز شریف کو وزیراعظم منتخب کر سکتی ہے۔پی ایم ایل (این) نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دوسو اڑسٹھ نشستوں میں سے ایک سو چھبیس پر کامیابی حاصل کی ہے اور اٹھارہ نومنتخب آزاد ارکان بھی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے ہیں جس کے بعد اس کے ارکان کی تعداد ایک سو چوالیس ہوگئی ہے۔

خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص ستر نشستوں میں سے اس کے حصے میں قریباً چالیس نشستیں آئیں گی۔اس طرح اسے تین سو بیالیس کے ایوان میں ایک سو چوراسی ارکان کی حمایت حاصل ہوگی جبکہ سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کے لیے ایک سو بہتر ارکان کی حمایت درکار ہے۔سابق حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی صرف اکتیس نشستیں حاصل کی ہیں اور کرکٹ اسٹار عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف انتیس نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی ہے۔