پاکستان: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کا تقرر کالعدم قرار

ایڈمرل فصیح بخاری کو کام سے روک دیا گیا،حکومت کو نئے چیئرمین کے تقرر کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو(نیب ) کے چیئرمین ایڈمرل (ریٹائرڈ) فصیح بخاری کا تقرر کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر فائز نہیں رہے۔

سپریم کورٹ کے سینیّر جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے نیب کے چئیرمین کے تقرر کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی اور منگل کو اپنا مختصر حکم سنایا ہے۔عدالت نے ایڈمرل فصیح بخاری کو کام سے روک دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ فصیح بخاری کا نیب کے چئیرمین کے عہدے پر تقرر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور یہ تقرر نیب آرڈی ننس کی دفعہ چھے کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔عدالت نے حکومت کو نئے چیئرمین کے تقرر کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین نیب کے تقرر کے خلاف اکتوبر 2011ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نومنتخب رکن اسمبلی اور سابق اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے درخواست دائر کی تھی اور اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس تقرر کے عمل میں پارلیمان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے قائد ایوان (وزیراعظم) کے علاوہ قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی،اس لیے اس تقرر کو اول روز سے ہی کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں الزام عاید کیا گیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایڈمرل فصیح بخاری کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔واضح رہے کہ ان کا اس عہدے پر تقرر 16 اکتوبر 2011ء کو تقرر کیا گیا تھا۔

چودھری نثار نے اپنی درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری پر ایک درجن سے زیادہ بدعنوانیوں کے الزامات میں مقدمات قائم تھے،اس لیے وہ ذاتی طور پر نیب کے چیئرمین کو مقرر کرنے کے اہل نہیں رہے تھے۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ چِیئرمین نیب کے تقرر کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری تھی تا کہ قومی احتساب بیورو کی غیر جانبداری اور آزادی کو یقینی بنایا بنایا جاسکے۔

قبل ازیں عدالت نے ایڈمرل فصیح بخاری کے خلاف صدر کو سخت الفاظ میں خط لکھنے پر توہین عدالت بھی لگادی ہے۔اس خط میں انھوں نے لکھا تھا کہ عدالت عظمیٰ نیب کی تحقیقات کے عمل میں غیر ضروری طور پر دباؤ ڈال رہی ہے اور بدعنوانیوں کے مختلف مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

سماعت کے دوران ایڈمرل فصیح بخاری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے تقرر کے خلاف درخواست صرف صدر زرداری پر دباؤ ڈالنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔انھوں نے موقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیم کے بعد چیئرمین نیب کے تقرر میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کوئی کردار نہیں رہا تھا لیکن ان کے اس موقف کو عدالت نے مسترد کردیا۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر تقرر میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتو معاملے کی حتمی فیصلے کے لیے سینیٹ کی کمیٹی کو بھیجا جا سکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں