شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ: طالبان کے نائب سربراہ کی مبینہ ہلاکت

گیارہ مئی کے انتخابات اور اوباما کی تقریر کے بعد پہلا ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم از کم سات افراد مارے گئے ہیں۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ ڈرون حملہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شام کے قریبی قصبے چشمہ میں کیا گیا۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرون طیارے حملے کے بعد بھی کافی دیر تک فضا میں پرواز کرتے رہے۔

پشاور سے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کی رپورٹوں میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکاروں کے حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں تحریک طالبان پاکستان کا نائب سربراہ ولی الرحمان بھی شامل ہے۔

پاکستان میں گیارہ مئی کے پارلیمانی انتخابات کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔ ابھی حال ہی میں امریکی صدر باراک اوباما نے ڈرون حملوں سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق پاکستان کے علاوہ دیگر مقامات پر ڈرون حملوں کا کنٹرول خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے لے کر محکمہ ء دفاع پینٹاگون کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا انتظام اب بھی سی آئی اے کے پاس ہے۔

اگلے ماہ کے اوائل میں متوقع طور پر وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے والے نواز شریف نے ڈرون حملوں کو پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے لیے ایک چیلنج ٹھہرایا ہے۔ ایک انٹرویو میں وہ کہہ چکے ہیں، ’’ ہم اس بابت اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘ خبر رساں رائیٹرز نے تازہ ڈرون حملے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس باعث چار افراد زخمی بھی ہوئے تاہم ڈرون کا نشانہ بننے والوں کی شناخت فوری طور پر عام نہیں ہوسکی ہے۔

اگرچہ ڈرون حملوں میں القاعدہ کے اہم کمانڈر مارے جاچکے ہیں تاہم ان کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکت کے باعث پاکستان میں یہ حملے بہت بڑی حد تک ناپسند کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے ادارہ براہ تحقیقی صحافت کے اندازوں کے مطابق سال 2004ء سے اب تک پاکستان میں ان حملوں کی زد میں آکر 3587 لوگ مارے گئے ہیں، جن میں سے 884 عام شہری تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں