.

طالبان نے امن مذاکرات کی پیشکش واپس لے لی

نائب امیر ولی الرحمان کی ہلاکت پر کالعدم تنظیم کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدمم تحریک طالبان پاکستان نے امریکی ڈرون حملے میں تنظیم کے نائب امیر ولی الرحمان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے رواں ہفتے میں برسرِ اقتدار آنے والی مسلم لیگ نواز کی حکومت کو امن مذاکرات کی پیشکش واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے پاکستانی اداروں پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی ڈرون حملوں کے لیے معلومات فراہم کرتے ہیں اور اس ماحول میں طالبان کے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کریں۔

چند روز پہلے پاکستان کے متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف اور خیبر پختونخوا کے متوقع وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے مولانا سمیع الحق سے امن و امان کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے مدد طلب کی تھی۔
طالبان تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق ولی الرحمان کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہوا ہے جس میں طے کیا گیا ہے کہ اب مذاکرات کا راستہ بند اور اب نائب امیر کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق احسان اللہ احسان نے ڈرون حملوں میں پاکستانی اداروں کے کردار کا ذکر کیا لیکن انہوں نے خصوصی طور پر چند دن بعد اقتدار میں آنے والی نئی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ماحول میں جس میں طالبان کو نشانہ بنایا جاتا ہے، حکومت سے کسی قسم کے مذاکرت کرنا طالبان کے لیے ناقابل قبول نہیں ہیں۔

رواں سال فروری میں تحریک طالبان کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو مذاکرات کی دعوت اس شرط پر دی تھی کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن، نوازشریف اور سید منور حسن فوج یا حکومت کے لیے ضمانت دیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔

طالبان کی اس پیشکش کے فوری بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کے بعد انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ملک میں امن مذاکرات سے ہی آئے گا۔

چند روز پہلے پاکستان کے متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف اور خیبر پختونخوا کے متوقع وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے جمعیت علماء اسلام کے اپنے گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے رابطوں کے بعد جمعیت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب قطر اور فرانس میں طالبان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتے۔

نواز شریف اور پرویز خٹک نے مولانا سمیع الحق سے امن و امان کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے مدد طلب کی تھی۔