میاں نوازشریف نے امریکا کے حالیہ ڈرون حملے کی مذمت کردی

میزائل حملہ پاکستان کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف نے ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستاں میں امریکا کے حالیہ ڈرون حملے کردی ہے۔اس حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر ولی الرحمان محسود مارے گئے تھے۔

میاں نوازشریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے میڈیا سیل کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ڈرون حملہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقدام بین الاقوامی اوراقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہے''۔

بیان کے مطابق میاں نواز شریف کے ایک قریبی مشیر نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ سے ملاقات کی ہے اور انھیں حالیہ حملے کے بارے میں پانج جون کو اقتدار سنبھالنے والے متوقع وزیراعظم کے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یک طرفہ اقدامات کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے میں قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''میاں نواز شریف نے ڈرون حملے پر اپنی گہری تشویش اور شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے اور ان کے مشیر نے امریکی سفارت کار کو باور کرایا ہے صدر براک اوباما کی ڈرون حملوں سے متعلق تقریر کے بعد یہ حملہ بہت ہی افسوسناک ہے کیونکہ اس تقریر میں انھوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے وقت زیادہ احتیاط کو یقینی بنانے کی بات کی تھی''۔

ولی الرحمان محسود بدھ کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔اس حملے میں چھے اور افراد بھی لقمہ اجل بنے تھے۔تاہم ان کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔ کالعدم تحریک طالبان نے ولی الرحمان محسود کی ''شہادت''کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور حکومتِ پاکستان کو ان کی موت کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان نے اپنے نائب امیر کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکومت سے مذاکرات کی پیش کش بھی واپس لے لی ہے جبکہ اس میزائل حملے کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے فوری طور پر کسی پیش رفت کے امکانات بھی معدوم ہوگئَے ہیں۔

پاکستان میں گیارہ مئی کو عام انتخابات کے انعقاد کے بعد امریکی سی آئی اے کا پاکستانی علاقے میں یہ پہلا میزائل حملہ تھا اور اس سے میاں نواز شریف اور دوسرے سیاسی قائدین کی جانب سے طالبان سے سلسلہ جنبانی شروع کرنے کے لیے کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس حملے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے شمالی وزیرستان پر ڈرون نہیں گرایا بلکہ اس نے اس سے مجوزہ مذاکراتی عمل ہی سبوتاژ کردیا ہے اور اب طالبان میں اعتماد بحال کرنا بہت مشکل ہوگا۔

درایں اثناء جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہاہے کہ حالیہ امریکی ڈرون حملے کا مقصد طالبان سے مذاکرات کے عمل کو روکنا تھا۔لاہورمیں نیوزکانفرنس میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے عین اس وقت ڈرون حملہ کیا ہے جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع ہونے والا تھا اوراس کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

یادرہے کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپریل میں پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت نے امریکا کو ملک میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں کی اجازت دی تھی اور اس ضمن میں ان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا۔

سابق فوجی صدر نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ڈرون حملوں کی چند ایک مواقع کے لیے مشروط اجازت دی گئی تھی۔اس کی ایک شرط یہ تھی ڈرون حملہ اس وقت کیا جائے گا جب ہدف بالکل الگ تھلگ ہوگا اور اس سے کوئی اور نقصان نہیں ہوگا۔اس کو انھوں ''کولیٹرل'' نقصان کا نام دیا ہے۔

امریکی سی آئی اے نے سن 2004ء میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے وزیرستان پر ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اور پہلے ڈرون حملے میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کم سے کم چار سو ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے کمانڈر یا طالبان جنگجو اور ان کے حامی مارے گئے یا مارے جارہے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آرہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔مذکورہ اخباری رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں طالبان یا القاعدہ کے دوسرے درجے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں