.

نیشنل پارٹی کے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد

صوبائی اسمبلی میں اکثریتی جماعت پی ایم ایل کی جمہوریت اور قومی مفاد میں قربانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے لیڈروں اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو بدامنی کا شکار صوبے بلوچستان کا وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہے۔

میاں نواز شریف نے اتوار کو مری میں پی ایم ایل این کی قیادت اور اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے طویل اجلاس کے بعد نیوزکانفرنس میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نامزدگی کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ بلوچستان کا آیندہ گورنر پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہوگا۔نیوز کانفرنس میں پی ایم ایل این بلوچستان کے صدر سردار ثناء اللہ زہری ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور میر حاصل بزنجو بھی موجود تھے۔

متوقع وزیراعظم نے کہا کہ یہ جمہوریت کے لیے خوشی کا دن ہے اور بلوچستان کی بھلائی چاہنے والے ہر فرد کے لیے بھی خوشی کا دن ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ غلطیوں کو دُہرانے کی اجازت نہیں دے گی۔اب ہم بلوچستان میں تبدیلی لائیں گے اوربہتر نظم ونسق قائم کریں گے۔

انھوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اور گورنر کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے،اب بلوچستان میں میرٹ اور صلاحیت کی حکمرانی ہوگی۔گذشتہ کئی برسوں سے صوبے میں جوکھیل کھیلا جا رہا ہے،اس کے خلاف ہم آواز اٹھاتے رہے ہیں اور اب ہم اس کھیل کو دُہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب بڑے صوبے بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کے لیے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نام مسلم لیگ کی قیادت اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی جانب سے سامنے آیا تھا حالانکہ گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں پی ایم ایل این نے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور اس جماعت کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ زہری اور ایک اور صوبائی عہدے دار میرچنگیز مری بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے لیکن پی ایم ایل این نے جمہوریت اور صوبے کے مفاد میں حکومت کی سربراہی کی قربانی دے دی ہے۔

نامزد وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی نامزدگی کو بدامنی کا شکار صوبے میں صورت حال کی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جارہا ہے۔وہ ماضی میں تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور نوّے کی دہائی میں نواب اکبر بگٹی کے دورحکومت میں وہ صوبائی وزیرتعلیم رہے تھے۔صوبائی اسمبلی میں حالیہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہنے والی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی وزارت اعلیٰ کے لیے ان کا نام تجویز کیا تھا۔