.

خیبرپختونخوا:ضلع ہنگو میں پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی قتل

نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فرید خان کی گاڑی پر فائرنگ،بھائی شدید زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے رکن فرید خان کو نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے ہنگو کے گاؤں سنگیر میں سوموار کو فرید خان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے وہ اور ان کا ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے ان کے بھائی شاہنواز زخمی ہوگئے ہیں۔

اکتالیس سالہ فرید خان گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 42 سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے اور انھوں نے جمعیت علماء اسلام کے امیدوار عتیق الرحمان کو شکست دی تھی۔اس کے بعد وہ غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔پی ٹی آئی نے گذشتہ ہفتے ہی صوبے میں جماعت اسلامی اور سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کی جماعت وطن پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہے۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے ان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو فون کر کے انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ فرید خان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لیے اقدامات کریں۔

فوری طور پر کسی مسلح گروپ نے رکن صوبائی اسمبلی پر قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔مقتول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک عام آدمی تھے اور عوام میں گھل مل کر رہتے تھے۔وہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایک عرصے سے ضلع ہنگو میں رہ رہے تھے۔

انھوں نے جب صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات جمع کرائے تو اس وقت ان کی جیب میں صرف ایک سو روپے کا نوٹ تھا۔وہ جامعہ پشاور میں شعبہ فائن آرٹس کے طالب علم بھی رہے تھے لیکن بوجوہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل نہیں کرسکے تھے۔

انھوں نے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ دوسری جماعتوں نے انھوں نے لاکھوں روپوں کی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے کے بجائے تحریک انصاف میں شمولیت کو ترجیح دی تھی کیونکہ ان کے بہ قول یہی جماعت صوبے کے عوام کو حل کرسکتی ہے۔

پاکستان میں گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں منتخب ہونے والے کسی رکن اسمبلی کے قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ان انتخابات کے لیے مہم کے دوران تشدد کا سلسلہ جاری رہا تھا اور ایک ماہ کے عرصے میں ملک کے مختلف شہروں میں سیاست دانوں،انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پر بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں کم سو کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔مقتولین میں تین انتخابی امیدوار بھی شامل تھے۔