.

میاں نوازشریف وزیراعظم منتخب،امریکا سے ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ

کراچی میں صورت حال بہتر بنانے سمیت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل۔ این) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف دوتہائی اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں اور وہ تیسری مرتبہ اس منصب پر فائز ہونے والے ملک کے پہلے سیاستدان ہیں۔

اسلام آباد میں پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں بدھ کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے تقسیم کی بنیاد پر ووٹ شماری ہوئی اور 244 ارکان نے میاں نواز شریف کے حق میں ووٹ دیا۔ان کے مدمقابل سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم امین فہیم نے 42 اور پاکستان تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی نے 31 ووٹ حاصل کیے ہیں۔قومی اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد342 ہے۔

میاں نواز شریف نے اپنے انتخاب کے بعد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر اسلام آباد میں ان سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مختلف ممالک کے سفیروں، صوبائی گورنروں اور نگران وزرائے اعلیٰ، سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، موجودہ اسپیکر ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اوراہم شخصیات نے شرکت کی۔

قبل ازیں میاں نواز شریف نے پاکستان کے اٹھارھویں وزیراعظم بننے کے بعد قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ان پر جو اعتماد کیا ہے،وہ اس پر پورا اتریں گے۔انھوں نے ایوان میں موجود اراکین سے بھی کہا کہ عوام سے ملنے والے مینڈیٹ پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔

انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اقتدار کے بجائے اصولوں کی سیاست کا آغاز کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے تبدیلی کے عمل کو قبول کیا ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو حکومت بنانے دی ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں پی ایم ایل این نے صوبے کے نمائندوں کے لیے میدان کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔

میاں نوازشریف نے کہا کہ اب وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں فاٹا میں ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ دوسرے ممالک پاکستان کی خودمختاری کا احترام کریں اور اس کی اس ضمن میں تشویش کو دور کرنے کی کوشش کریں۔تاہم انھوں نے تقریر میں امریکا کا نام نہیں لیا۔البتہ ان کا اشارہ امریکا کی جانب ہی تھا۔

نومنتخب وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا ٹھوس انفرااسٹرکچر بنایا جائے گا،اقتصادی اصلاحات کی جائیں گی اور بدعنوانیوں پر قابو پایا جائے گا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت ملک میں اقلیتوں کی حالت کو بہتر بنائے گی۔انھوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ وہ اصلاحات کے عمل میں ان کی رہنمائی کرے۔

انھوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن وامان کی ابتر صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اس شہر میں امن وامان بہتر بنانے کے لیے انتھک کوششیں کرے گی اور اس ضمن میں صوبہ سندھ کی حکومت سے تعاون کیا جائے گا۔

ملک میں بجلی کی گھنٹوں بندش کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ ''پی ایم ایل این نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔اس کے نتائج بہت جلد آنا شروع ہوجائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نظم ونسق کی بہتری پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی اور اقلیتوں کا تحفظ کرے گی لیکن ان مسائل پر کوئی بھی جماعت تنہا قابو نہیں پاسکتی۔اس کے لیے تمام جماعتوں کے تعاون کی ضرورت ہے''۔

میاں نواز شریف کی کابینہ میں مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈروں کو اہم وزارتیں دی جارہی ہیں۔سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا جارہا ہے،چودھری نثارعلی خان امور داخلہ کے وزیر ہوں گے۔سینیٹر پرویز رشید کو وزارت اطلاعات ،خرم دستگیر کو تجارت ،احسن اقبال انفارمیشن ٹیکنالوجی ،زاہد حامد قانون ،شاہد خاقان عباسی پٹرولیم اور قدرتی وسائل ،سردار یوسف فوڈ سکیورٹی ،کامران مائیکل اقلیتی امور اور مسلم لیگ فنکشنل کے رکن اسمبلی صدرالدین راشدی کو ترقی کی وزارت کا قلم دان سونپا جارہا ہے۔

اسلام آباد سے دوسری مرتبہ ایم این اے منتخب ہونے والے ڈاکٹر طارق فضل چودھری ،خاتون رکن انوشہ رحمان اور سائرہ افضل تارڑ کو بھی نئی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔سابق سفارت کار طارق فاطمی کو وزیراعظم کا امورخارجہ کا مشیر مقرر کیا جارہا ہے۔میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا ووٹ دینے والی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام سمیت دوسری چھوٹی جماعتوں کو کابینہ میں شامل کرنے کے بارے میں فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔