.

نواز شریف 13 سال 8 ماہ بعد آج دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں گے

رسمی مقابلہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے امیدواروں سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میاں محمد نواز شریف تیرہ سال کے وقفے کے بعد آج تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے منتخب ہونے جا رہے ہیں۔ ان کا رسمی مقابلہ پیپلز پارٹی کے امین فہیم اور تحریک انصاف کے جاوید ہاشمی سے ہو گا۔

نواز شریف کی جماعت کو قومی اسمبلی میں عددی برتری حاصل ہے اور قوی امکان یہی ہےکہ وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں انتخاب کے بعد نواز شریف صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں باضابطہ طور پر حلف اٹھائیں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کے لیے جمہوری سنگ میل عبور کرنے اور اقتدار کے ایوانوں میں شاندار واپسی کی خوشیاں طویل نہیں ہوں گی۔ ان کے سامنے مسائل کے انبار لگے ہیں۔ انہیں لوڈ شیڈنگ کے بدترین بحران سے لے کر لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے جیسے سنگین مسائل کو جلد از جلد حل کرنا ہو گا تاکہ ایک عام پاکستانی کے لیے زندگی گزارنا آسان ہو سکے۔

امید کی جا رہی ہے کہ نواز شریف قومی اسمبلی میں ایک مختصر تقریر بھی کریں گے، جس میں وہ ملک کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے بارے میں اپنی ترجیحات بیان کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے، ’’وہ لوڈ شیڈنگ (بجلی کی کمی)، امن و امان کی صورتحال اور تباہ حال معیشت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی کے بارے میں بات کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’نواز شریف صبر اور برداشت کی سیاست کو فروغ دینے اور ملک میں قانون و جمہوریت کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اسمبلی کو اعتماد میں لیں گے۔‘‘

توقع کی جا رہی ہے کہ نواز شریف اپنے عہدے کا حلف لینے کے بعد کسی بھی وقت قوم سے طویل خطاب کریں گے، جس میں نواز شریف اپنی خارجہ پالیسی بھی بیان کریں گے۔ نواز شریف پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ روایتی حریف سمجھے جانے والے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

مبصرین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ 1947ء سے اب تک پاکستان پر نصف عرصے سے زائد تک حکمرانی کرنے والی فوج کے جرنیل اب بھی خارجہ پالیسی میں بڑی حد تک اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق اس مرتبہ نواز شریف فوج کے ساتھ سویلین حکومت کے تعلق پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کے آخری ایام میں نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق امریکی پالیسی پر کھل کر تنقید کی تھی۔ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں اور نظریاتی طور پر قدرے قدامت پسند تصور کیے جاتے ہیں۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق نواز شریف حکومت کے ابتدائی ایام میں کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گے اور حساس نوعیت کے بیشتر معاملات براہ راست انداز میں خود دیکھیں گے۔

تیسری بار حکمرانی کی منفرد تاریخ


میاں محمد نواز شریف پاکستان کے ستائیسویں وزیراعظم ہوں گے اور اس کیساتھ ہی انھیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہو جائے گا کہ انہوں نے تیسری بار وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے ۔ پاکستان کے علاوہ جاپان، ملائیشیا ء ، سنگاپور، برطانیہ ، کینیڈا ، بھارت ، آئس لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی ایک ہی شخص کے متعدد بار وزیر اعظم بننے پر کوئی پابندی نہیں ے ۔ جبکہ باقی دنیا میں بھی ایک ہی شخص کے متعدد بار وزیر اعظم بننے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کی دوڑ میں عراق کے نوری السعید اور سنگاپور کے لی کو آن یو سب پر بازی لے جا چکے ہیں ۔ ان دونوں حضرات نے آٹھ آٹھ مرتبہ وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔ نوری السعید نے 1958سے 1988 تک عراقی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالے رکھی۔ انکا تعلق دستور یہ اتحاد پارٹی سے تھا۔ جبکہ سنگاپور کے لی کو آن یو مسلسل آٹھ مرتبہ1963سے 1988تک وزیر اعظم رہے ۔ انکا تعلق پیپلز ایکشن پارٹی سے تھا۔ دوسرے نمبر پر کینیڈا کے ولیم لیون ہیں وہ چھ مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور1921سے 1948 تک ستائیس سال حکومت میں رہے ۔ پہلی تین مدتوں میں انھیں اکثریت کی حمایت حاصل تھی مگر اگلی بار انھیں اقلیتی ارکان اور اپوزیشن کا سہارا لینا پڑا۔ انکے بعد نمبر آتا ہے ملائیشیا ء کے مہاتیر محمد کا وہ بھی لگاتار چھ بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور1981سے 2003 تک بائیس سال تک وزارت عظمٰی پر فائز رہے۔

جاپان میں1947سے اب تک سب سے زیادہ 33 وزیر اعظم تبدیل ہوئے ۔ پچھلے آٹھ سالوں میں جاپان کے سات وزیر اعظم ایڈمنسٹریشن سے تنگ آکر وقفے وقفے سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ اس طرح کے غیر یقینی حالات میں بھی شیگیرو یوشیدہ نے مسلسل چار مرتبہ منتخب ہوکر کوئی کم کارنامہ انجام نہیں دیا۔ خواتین میں برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر تین بار وزیر اعظم منتخب ہوکر انیس کی دہائی کی سب سے زیادہ مدت تک عہدے پر فائز رہنے والی وزیر اعظم تھیں۔ وہ 1979سے 1990تک وزیر اعظم رہیں۔ اسکے علاوہ ٹونی بلیر بھی1997سے 2005تک تین مرتبہ لگاتار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

امریکی تاریخ میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ وہاں صدارتی نظام حکومت قائم ہے مگر بعض مخصوص حالات میں صدور متعدد بار منتخب ہوتے رہے ہیں جن میں روز ویلٹ ، آئزن ہاور اور ابراہم لنکن کے نام نمایاں ہیں۔ ان میں روز ویلٹ مسلسل چار مرتبہ منتخب ہو کر1933سے 1946میں اپنی ہلاکت تک صدر رہے ۔ بعدازاں 1951 میں کی گئی آئینی ترمیم کے ذریعے دوسے زائد مرتبہ صدر منتخب ہونے پر پابندی لگادی گئی تھی۔