.

شمالی وزیرستان میں بم حملے،تین پاکستانی فوجی شہید

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری،دو پولیس اہلکاروں سمیت 10 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی قافلوں پر بم حملوں کے نتیجے میں تین فوجی شہید اور چار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ سب سے بڑے شہر کراچی میں مسلح افراد کی فائرنگ اور بم حملوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت دس شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے ستر کلومیٹر جنوب میں پینتیس گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے پر سڑک کے کنارے نصب بم سے حملہ کیا گیا۔حملے میں تین فوجی جان کی بازی ہار گئے اور دوزخمی ہوگئے۔فوجی قافلہ رزمک سے شمال مغربی شہر بنوں کی جانب جارہا تھا۔

میران شاہ سے بیس کلومیٹر مشرق میں واقع علاقے میں ایک اور فوجی قافلے پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔ایک مقامی عہدے دار نے فوجی قافلوں پر بم حملوں اور ان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

ادھر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ اور بم حملوں میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے علاقے پٹیل پاڑا میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے دو پولیس اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

کراچی کے علاقے لیاری میں ابتر صورت حال کے پیش نظر رینجرز نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔قبل ازیں لیاری کے علاقے بہار کالونی سے دولاشیں ملی ہیں۔ان افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا،لیاری کے علاقے گبول پارک کے قریب دستی بم کے حملے میں ایک آٹھ سالہ بچی اور ایک شخص جاں بحق اور نو افراد زخمی ہو گئے۔

لیاری ہی کے علاقے ہنگورآباد میں دستی بم کے حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔انھیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔کورنگی کراسنگ، الطاف نگر کے قریب ایک خاتون کی لاش ملی ہے۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے گارڈن میں دھوبی گھاٹ کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔گلشن اقبال میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی میں گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات کے بعد سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور دہشت گرد عناصر کے علاوہ لسانی ونسلی گروہ ایک دوسرے کے مخالفین اور عام شہریوں کو فائرنگ اور بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

صوبہ سندھ میں حال ہی میں قائم ہونے والی نئی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت ہی کا تسلسل ہے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی قیادت میں یہ نئی حکومت شہر میں رونما ہونے والے تشدد کے ان واقعات پر ماضی کی طرح قابو پانے میں بری طرح ناکام ہے اور اس کی جانب سے اب تک کراچی میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی ہے۔