.

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے حلف اٹھا لیا

بلوچستان اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کا اتفاق رائے سے انتخاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

گورنر ہاؤس کوئٹہ میں اتوار کی شام منعقدہ ایک پروقار تقریب میں گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔قبل ازیں بلوچستان اسمبلی نے اتفاق رائے سے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب کرلیا۔ان کے مقابلے میں کسی اور امیدوار نے وزارت اعلیٰ کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے۔

بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے وقت پچپن ارکان موجود تھے۔ڈاکٹر عبدالمالک کو ان کی جماعت کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی حمایت حاصل تھی۔آخری وقت میں جمعیت علماء اسلام کے ارکان نے بھی ان کی حمایت کردی۔اس طرح ایوان نے انھیں اتفاق رائے سے منتخب کر لیا۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے لیڈروں اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد بدامنی کا شکار صوبے کا وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا۔ان کے اس فیصلے کو صوبے کے عوام نے بالخصوص اور پاکستان بھر کے سیاسی اور صحافتی حلقوں نے سراہا ہے۔

گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں پی ایم ایل این نے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور اس جماعت کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ زہری اور ایک اور صوبائی عہدے دار میرچنگیز مری بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے لیکن پی ایم ایل این نے جمہوریت اور صوبے کے مفاد میں حکومت کی سربراہی کی قربانی دی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو انتخاب کو بدامنی کا شکار صوبے میں صورت حال کی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔وہ صوبے میں اچانک لاپتا یا غائب کیے جانے والے افراد کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں لیکن ان کے انتخاب کے روز ہی صوبے کے مختلف علاقوں سے پانچ نامعلوم مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

وہ ماضی میں تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور نوّے کی دہائی میں نواب اکبر بگٹی کے دورحکومت میں وہ صوبائی وزیرتعلیم رہے تھے۔صوبائی اسمبلی میں حالیہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہنے والی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزارت اعلیٰ کے لیے ان کا نام تجویز کیا تھا۔

مذکورہ تینوں جماعت کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت اب پختونخوا میپ کے کسی لیڈر کو صوبے کا گورنر مقرر کیا جائے گا۔اس طرح صوبے میں انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوجائے گا۔واضح رہے کہ موجودہ گورنر ذوالفقارمگسی اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہِیں۔تاہم صدر آصف زرداری نے انھیں نئے گورنر کے تقرر تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔