.

پاکستان کی نئی حکومت نے خسارے کا پہلا بجٹ پیش کر دیا

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھیں، پنشن میں 10 فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نو منتخب حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 14- 2013 کے لئے قومی اسمبلی میں تین ہزار پانچ سو اکیانوے ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ خسارے کا تخمینہ سولہ سو چوہتر ارب روپے لگایا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ریٹائرد ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں [قومی اسمبلی] میں بدھ کے روز بجٹ تقر یر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جہاں سے آغاز کر رہی ہے، وہ افسوسناک ہے۔ ملک کی خراب اقتصادی صورتحال کی بھیانک تصویر پیش کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ سات فیصد تک پہنچ چکا ہے جسکی ماٰضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بنک کے پاس 6٫3 ارب ڈالر زر مبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں۔ قرضوں کا بوجھ 14 ہزار 284 ارب کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ زیر گردش قرضوں کا حجم 500 ارب روپے ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان آٹو پائلٹ پرچل رہا ہے۔ مختلف شعبوں مین بہتری لانے کا دعوی کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’’ملک کو اس وقت جن شدید اقتصادی مسائل کا سامنا ہے وہ اس بات کے متقاضی ہین کہ ہم اپنے اندرونی محاصل کو یقینی بنائیں اور بیرونی امداد اور قرضوں پر کم سے کم انحصار کریں۔ اس ضمن میں خود کفالت انتہائی ضروری ہے۔ ملک توانائی بحران کا شکار ہے اس مسئلے کے حل اور ہمارے غریب عوام کی تکالیف دور کرنے کےلئے بھاری سرماے کی ضرورت ہے۔ جو ٹیکسوں کے نظام میں بہتری لا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔"

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار ارب سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت زیادہ وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کو ترقیاتی منصوبے کے لیے زیادہ فنڈ دیے جا رہے ہیں۔ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 360 ارب روپے تھا۔

گزشتہ حکومت کے دور میں معیشت خودکار طریقے یعنی ’آٹو پائلٹ‘ پر چل رہی تھی

اسحاق ڈار

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے قومی اسبمبلی میں پیش کردہ بجٹ تجاویز میں دفاعی امور اور خدمات کے لیے چھ سو ستائیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی اہلکاروں کی پینشن کے لیے اضافی ایک سو بتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سویلین حکومت کے اہلکاروں کی تنخواہ اور پینشن کے لیے پچیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ پر بحث کا آغاز کل (جمعرات) سے ہو گا۔ بحث مکمل ہونے کے بعد بجٹ تجاویز کی شق وار منظوری لی جائے گی۔

بجٹ پر ردعمل


سیاسی رہنماٶں نے بجٹ پر اپنے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ [ن] اور ان کے حامی جہاں اسے ان حالات میں ایک بہتر بجٹ کہہ رہے ہیں وہیں پرحکومت مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے لوگوں کو مہنگائی کے سیلاب کے حوالے کردیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کے بارے میں معاشرے کا کوئی طبقہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے انہیں کچھ ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں سرکاری ملازم کو بری طرح نظرانداز کیا گیا۔

بجٹ میں انکم سپورٹ پروگرام جاری رکھنے اوراس کے لیے مختص رقم میں اضافے پرتبصرہ کرتے ہوئے سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ پروگرام تو جاری رکھا لیکن اس سے بے نظیر بھٹو کا نام ہٹا دیا جس سےاندازہ ہوتا ہے کہ انہیں بےنظیرکے نام سے خوف آتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کی رائے میں حکومت نے معاشی مشکلات کے باوجود قدرے بہتر بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم بھاری بجٹ خسارے کی وجہ سے اپنے اہداف کے حصول میں مشکل رہے گی۔