.

پرویزمشرف بلوچ لیڈر اکبر بگٹی کے قتل کیس میں باضابطہ گرفتار

انسداد دہشت گردی جج کا سابق صدر کو اسلام آباد میں زیرحراست رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق جنرل صدر پرویز مشرف کو پاک فوج کی ایک کارروائی میں بلوچ سردار اور صوبہ بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں جمعرات کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق صدر کی اکبر بگٹی کے قتل کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔اس کے بعد بلوچستان ٹیم کی درخواست اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انھیں گرفتار کرنے اور انھیں پندرہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر زیرحراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد بلوچستان پولیس کے سنئیر افسروں پر مشتمل ایک ٹیم نے انھیں اسلام آباد میں ان کے محل نما فارم ہاؤس سے باضابطہ طور گرفتار کر لیا ہے۔

یادرہے کہ بلوچ رہ نما نواب اکبر بگٹی سابق جنرل صدر کے حکم پر ضلع ڈیڑہ بگٹی میں ایک فوجی کریک ڈاؤن کے دوران 26 اگست، 2006ء کو ایک غار میں مارے گئے تھے۔ان کے قتل کے الزام میں سابق صدر اور ان کے ساتھ شریک اقتدار شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پرویز مشرف اس وقت اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع اپنے محل نما فارم ہاؤس میں 19 اپریل سے نظر بند ہیں اور کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بھی انھیں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہیں زیرحراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔اب کوئٹہ پولیس کے افسر سابق صدر سے وفاقی دارالحکومت ہی میں اکبر بگٹی قتل کیس کی تفتیش کریں گے۔

پاکستانی حکام نے سابق فوجی کو کسی عام جیل میں منتقل نہیں کیا تھا اور ان کے پرتعیش فارم ہاؤس ہی کو عارضی سب جیل قرار دے دیا تھا۔وہ مارچ میں قریباً پونے پانچ سال کی خودساختہ جلا وطنی کے بعد بیرون ملک سے پاکستان لوٹے تھے۔اس کے بعد سے انھیں عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہےاور ان سے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس، 2007 ء میں ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کو توڑنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی برطرفی سے متعلق کیسوں کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

اول الذکردونوں کیسوں میں عدالتیں انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے چکی ہیں جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور دستور شکنی پر آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے اور اس جرم کی سزا موت ہے۔

عدالت عظمیٰ میں وکلاء نے سابق جنرل صدر کے خلاف آئین کو توڑنے کے الزام میں دفعہ چھے کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلانے کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن ملکی آئین کے تحت صرف وفاقی حکومت ہی کسی کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلا سکتی ہے۔سابق نگران حکومت نے ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے سے معذوری ظاہر کی تھی۔اب دیکھتے ہیں کہ گیارہ مئی کو منعقدہ عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت سابق فوجی صدر کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔