.

مردان: جنازہ کے دوران خودکش حملہ، ایم پی اے سمیت 28 جاں بحق

عمران مہمند نے آزاد حیثیت میں جے یو آئی [ف]کے امیدوار کو شکست دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں نماز جنازہ کے دوران دھماکے میں آزاد رکن صوبائی اسمبلی عمران مہمند سمیت 28 افراد جاں بحق اور کم از کم 27 افراد زخمی ہو گئے.

دھماکا نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے پٹرول پمپ مالک حاجی عبداللہ کی نماز جنازہ کے دوران ہوا جس میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عمران مہمند سمیت ستائیس افراد جاں بحق اور ستاون زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد ہر طرف افرا تفری پھیل گئی جبکہ تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی۔ امدادی اداروں اور مقامی افراد نے زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا۔

پولیس اور ایف سے کے افسران نے تحریک انصاف کے ایم پی اے عمران مہمند کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ عمران مہمند نے حالیہ الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 27 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا۔ عمران مہمند نے جمیعت علمائے اسلام [ف] کے امیدوار کو شکست دی تھی. انہوں نے 2008 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ابتدائی اطلاعات کے مطابق اسے خود کش دھماکا قرار دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام [ف] کے مولانا محمد قاسم نماز جنازہ پڑھا رہے تھے لیکن وہ اس میں محفوظ رہے۔ دھماکے میں متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں نامعلوم مسلح افراد نے شمال مغربی ضلع ہنگو میں تحریک انصاف کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی فرید مہمند کو قتل کر دیا تھا. اس طرح منگل کے بم دھماکے میں عمران مہمند مارے جانے والے دوسرے منتخب رکن اسمبلی ہیں.

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم نواز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین اور زخمیوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔