.

پشاور:امام بارگاہ میں خود کش بم دھماکا،14 افراد جاں بحق

کراچی میں مسجد کے باہر ایم کیو ایم کے ایم پی اے بیٹے سمیت قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے چمکنی میں اہل تشیع کی مسجد میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق اور کم سے کم تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور کے سپرنٹینڈنٹ پولیس رورل شفیع اللہ نے بتایا ہے کہ تین حملہ آوروں نے حسینی مدرسہ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی مزاحمت کی۔ان میں سے دو حملہ آوروں کو روک لیا گیا لیکن ایک خودکش حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے امام بارگاہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے محافظوں کو ہلاک کردیا۔

عینی شاہدین کے مطابق امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے وقت ایک زوردار دھماکا ہوا اور اس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔حملے کا نشانہ بنانے والا کمپلیکس اہل تشیع کے ایک مدرسے اور ایک امام بارگاہ پر مشتمل ہے۔بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے امام بارگاہ میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور اس کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک اہلکار عبدالحق کے مطابق حملے میں انتہائی شدت کا چھے سے سات کلو گرام بارود استعمال کیا گیا ہے۔پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں چار لاشیں اور تیس زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ان میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے امام بارگاہ پر حملے کی مذمت کی ہے اور واقعے میں چودہ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی پشاور میں عبادت گاہ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے پشاور میں اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ماضی میں اس طرح کے بم حملوں کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں پر عاید کی جاتی رہی ہے اور یہ تنظیم خود بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کے علاوہ اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پرحملوں کی ذمے داری قبول کرتی رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے ایم پی اے کا قتل

ادھر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مسجد کے باہر مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی اور ان کے بیٹے کو قتل کردیا ہے۔فائرنگ کے واقعے میں ایک راہگیر بھی مارا گیا ہے۔

کراچی کے ایک سنئیر پولیس افسر عامر فاروقی نے بتایا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں ایک موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے صوبائی اسمبلی کے رکن محمد ساجد قریشی،ان کے پچیس سالہ بیٹے اور ایک نمازی پر فائرنگ کردی۔وہ اس وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔

ساجد قریشی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ان کے بیٹے اور دوسرے نمازی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایم کیو ایم نے اس واقعہ کے بعد صوبائی حکومت میں شمولیت سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان موخر کردیا ہے۔ایم کیو ایم نے جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی دعوت پر سندھ حکومت میں شمولیت یا حزب اختلاف میں بیٹھنے سے متعلق فیصلہ کرنے کی غرض سے ریفرینڈم کا انعقاد کرایا تھا اور اس میں اپنے ووٹروں سے رائے طلب کی تھی۔