.

کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما کی ہلاکت کا سوگ، کاروبار زندگی معطل

ساجد قریشی کے قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ سندھ میں شہری علاقوں میں گہرا اثر و نفوذ رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کے پہلے دن کراچی میں میں کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بہت کم رہی۔

یاد رہے کہ نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جیسے ہی ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی مسجد سے باہر نکلے ہیں تو ان پر حملہ کیا گیا۔ ساجد قریشی کے ہمراہ ان کا بیٹا بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوا۔ ایم کیو ایم کے ہلاک ہونے والے رہنما محمد ساجد قریشی کراچی کے حلقے پی ایس 103 سے منتخب ہوئے تھے، ان کی عمر 53 سال تھی اور پیشے کے لحاظ سے تاجر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی کر دی تھی تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جمعرات کو ریفرینڈم کرایا تھا اور جمعہ کو اس کے نتائج کا اعلان کیا جانا تھا لیکن اب نتائج کو روک دیا گیا ہے۔ درایں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایم کیو ایم کے رہنما ساجد قریشی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ساجد قریشی گزشتہ تین سالوں میں ایم کیو ایم کے تیسرے رکن اسمبلی ہیں، جنہیں نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے رضا حیدر اور منظر امام کو قتل کیا گیا تھا۔

ادھر ایک دن پہلے ہی جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سندھ کی حکومت کو ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صوبائی حکومت ناکام رہی تو وفاقی حکومت اقدامات کرے گی۔