.

لندن:ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس،پاکستانی نژاد مشتبہ شخص گرفتار

ایم کیو ایم لیڈر کے قتل کے الزام میں پہلی گرفتاری،تفتیش میں اہم پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں برطانوی پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مقتول لیڈر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کرنے والے انسداد دہشت گردی افسروں نے آج سوموار کو واقعہ کی سازش کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے''۔

اس باون سالہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق نو بج کر دس منٹ پر لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا ہے اور اسے ایک پولیس اسٹیشن میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔یہ مشتبہ شخص کینیڈا سے واپس برطانیہ آیا تھا اور اسے ہوائی اڈے پر ہی دھر لیا گیا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی رہ نما ڈاکٹر عمران خان کو 16 ستمبر 2010ء کو لندن کے علاقے گرین لین میں ان کے مکان کے باہر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے قتل کردیا تھا۔ان کی پوسٹ مارٹم کے مطابق ان کی موت چاقو کے پے درپے واروں کے زخم لگنے سے ہوئی تھی۔

لندن پولیس گذشتہ ایک سال سے ان کے قتل کی تحقیقات کررہی ہے اور یہ اس واقعے میں پہلی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور اسے اس کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔گذشتہ ہفتے برطانوی پولیس نے لندن میں تحقیقات کے سلسلہ میں دومکانوں کی جامہ تلاشی لی تھی اور نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ نے مبینہ طور پر ان دونوں مکانوں سے متعدد دستاویزات ضبط کر لی تھیں۔

ٹی وی رپورٹس کے مطابق ان میں سے ایک مکان لندن میں ایم کیوایم کے جلا وطن قائد الطاف حسین کا ملکیتی تھا۔ڈاکٹر عمران فاروق ایم کیو ایم (سابقہ مہاجر قومی موومنٹ) کے بانی رکن تھے اور وہ 1999ء سے لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزاررہے تھے۔ان کے پراسرار انداز میں قتل کو ایم کیو ایم کے داخلی انتشار کا شاخسانہ بھی قرار دیا گیا تھا۔