.

پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا: نواز شریف

پاکستانی وزیر اعظم کا قومی اسمبلی میں بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نئی وفاقی حکومت نے آج پیر کے روز اعلان کیا کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ غداری کا الزام ثابت ہو جانے پر سابق صدر مشرف کو سزائے موت یا عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اسی سال مارچ میں چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس وطن لوٹے تھے۔ وہ 19 اپریل سے اسلام آباد کے مضافات میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہیں۔ مشرف کو اپنے خلاف کئی ایسے مقدمات کا سامنا ہے، جن کا تعلق 1999ء سے لے کر 2008ء تک جاری رہنے والے ان کے دور اقتدار سے ہے۔

جنرل مشرف اس وقت اقتدار میں آئے تھے، جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اب پاکستان میں نواز شریف گزشتہ عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی زبردست کامیابی کے بعد دوبارہ پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ملکی پارلیمان کو بتایا کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف کے فوج کے سربراہ کے طور پر ماضی میں اقتدار پر قبضے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ملک سے شدید نوعیت کی بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔

نواز شریف نے پیر کے روز ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’انہیں مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے قصور وار ہونے کے حوالے سے عدالت کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘ اے ایف پی کے مطابق پاکستان کی نئی وفاقی حکومت کے ایماء پر یہی بات ملک کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں بھی کہی ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق کسی بھی فرد کے خلاف بغاوت کے الزام میں عدالتی کارروائی صرف ریاست کی درخواست پر ہی شروع کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں کئی مہینوں سے متعدد وکیلوں کی طرف سے دائر کی گئی ایک ایسی درخواست کی سماعت بھی جاری ہے، جس کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس درخواست میں پرویز مشرف کے خلاف الزام کی بنیاد 2007ء میں آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنے اور سینئر ججوں کی برطرفی کے فیصلے کو بنایا گیا ہے۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات سے قبل پاکستان کی نگران وفاقی حکومت نے یہ کہتے ہوئے پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمے کی کارروائی شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ اس کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ نئی منتخب حکومت کو کرنا چاہیے۔

ابھی حال ہی میں دوبارہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف نے اس بارے میں اپنی سوچ کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا، ’پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کی۔ 1999ء میں انہوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور سب کچھ خطرے میں ڈال دیا۔ پھر انہوں نے سینئر ججوں کو برطرف کر کے انہیں نظر بند رکھا۔‘

نواز شریف نے اس بارے میں مزید کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کے لیے قانون میں درج راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی بھی عدالتی کارروائی شروع کیے جانے سے سابق صدر کے لیے یہ امکانات کم ہو جائیں گے کہ وہ اپنے قانونی مشیروں کی مدد سے موجودہ حکومت کے ساتھ کوئی درپردہ مفاہمت کر لیں اور اپنی ضمانت کی منظوری کے بعد پاکستان چھوڑ کر چپکے سے بیرون ملک چلے جائیں۔

مشرف کے خلاف بغاوت کے کسی بھی مقدمے کے باعث پاکستان کی سویلین حکومت اور طاقتور فوج کے درمیان کھچاؤ بھی پیدا ہو جائے گا۔ ان دنوں اسلام آباد کے نواح میں چک شہزاد میں اپنے گھر پر نظر بند پرویز مشرف کے فی الحال بیرون ملک جانے پر پابندی عائد ہے۔