.

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ایدھی کے گردے ناکارہ

حالت نازک، گردوں کا عطیہ دینے کے لئے ڈاکٹروں کی عوام سے اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کے گردے فیل ہو گئے جس کے باعث شاید انہیں پوری زندگی ڈائیلاسز پر گزارنی ہو گی۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں ایدھی کے معالج ڈاکٹر ادیب رضوی کا کہنا ہے کہ عبدالستار ایدھی کے دونوں گردے فیل ہو گئے ہیں اور ہم نے ان کے لئے گردے عطیہ کرنے کے لیے لوگوں سے اپیل کی ہے تاہم ایدھی کی صحت کو دیکھتے ہوئے ٹرانسپلانٹ کا عمل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرانسپلانٹ ممکن نہ ہو سکا تو متعروف سماجی رہنما کو تمام زندگی ڈائیلاسسز پر گزارنا ہو گی۔

نوے سالہ ایدھی گزشتہ ڈھائی مہینے سے ڈائیلاسز پر ہیں۔ الیکڑانک میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اپنی صحت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا فیصل اور بیوی بلقیس میری ہر چیز کا بہت خیال رکھ رہے ہیں۔ میں نے گردہ عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے اور اگر میری زندگی ہے تو میں ہر حال میں زندہ رہوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ میرا مشن مکمل ہوچکا ہے، مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ کراچی میں قربانی کی کھالیں اور فطرہ کم ملتا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے بڑی تعداد میں کھالیں اور فطرہ موصول ہوتا ہے۔ پنجاب اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے امداد میں اضافہ کردیا ہے۔ سیاچن سے ننگرہاراور لاہور سے کابل تک خدمات فراہم کرتا ہوں۔ ایدھی نے انتہائی نحیف مگر پرعزم انداز میں کہا کہ پاکستان قائم ہے اور قائم رہے گا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا نے سماجی کاموں کے حوالے سے میری اور انسانیت کی بھرپور مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری صحت سندھ کے علاوہ کوئی حکومتی یا سیاسی شخصیت خیریت دریافت کرنے نہیں آئی۔ اب مزید ڈائیلائسز نہیں ہوں گے۔ ڈاکٹروں نے خواراک کی کمی پورا کرنے اور مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے زیر اہتمام ملک بھر میں 1800 ایمبولینسیں، 3 فضائی ایمبولینس اور 400 سے زائد مراکز کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کو سالانہ کروڑوں روپے امداد موصول ہوتی ہے، جس کا مکمل حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن کے مالی معاملات اتنے شفاف ہیں کہ اب تو آڈٹ کرنے والے بھی نہیں آتے ، پہلے آتے تھے۔

حکومت کی جانب سے کسی رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ سیکریٹری صحت سندھ طبیعت معلوم کرنے آئے تھے۔ تاہم ان کے علاوہ کوئی حکومتی یا سیاسی شخصیت خیریت پوچھنے نہیں آئی۔ البتہ طبیعت پوچھنے کے لئے وزیر اعظم اور گورنر سندھ کا پیغام بلقیس ایدھی کے ذریعے موصول ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا، برطانیہ اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی ایدھی فاؤنڈیشن کی مالی معاونت کرتے ہیں اور حالیہ دنوں میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن غیرملکی امداد قبول نہیں کرتی۔ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانی امداد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا جن ممالک میں کشمیری زیادہ تعداد میں آباد ہیں، وہاں سے زیادہ امداد موصول ہوتی ہے۔