.

پرویز مشرف بے نظیر قتل کیس کے مرکزی ملزم قرار

سابق سیکرٹری بینظیر قتل کیس میں مشرف کے خلاف گواہ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویزمشرف کو سابق مقتول وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کا مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے ان پر 'قتل کی مجرمانہ سازش' تیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایف آئی اے نے منگل کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشرف کے خلاف چار نکاتی چارج شیٹ پیش کی۔ چارج شیٹ میں انہیں مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کے قتل کی مجرمانہ سازش تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مشرف کے خلاف دو امریکیوں سمیت چار گواہوں کے بیانات اور بینظیر بھٹو کا اپنا بیان بھی بطور شہادت شامل ہے۔ چارج شیٹ میں پرویزمشرف پر دہشت گردی کے مرتکب ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صحافی کا بیان مشرف کو ملزم ثابت کرتا ہے جبکہ دوران تفتیش وہ اپنی بیگناہی کے ٹھوس شواہد بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالت نے پرویزمشرف کو دو جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سیکیورٹی خدشات کی بنا پر منگل عدالت میں پیش نہ ہونے والے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری محمد اظہر کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کیا گیا ہے۔

داریں اثنا بینظیر قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور سابق سیکرٹری داخلہ کمال شاہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف اہم گواہ بن گئے ہیں۔

اطلاع کے مطابق ایف آئی اے نے قتل کے حوالے سے پرویز مشرف سے تفتیش کی تو انہوں سیکیورٹی کی ذمہ داری سیکرٹری داخلہ کمال شاہ پر ڈال دی جب ایف آئی اے نے پرویز مشرف کا بیان کمال شاہ کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ تمام اختیارات پرویز مشرف کے پاس تھے ہم نے بینظیر بھٹو کی سیکیورٹی کے حوالے سے درخواست سابق صدر کو پہنچادی تھی لیکن انہوں نے سیکیورٹی دینے سے منع کیا تھا۔