.

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی دو روزہ دورے پر پاکستان آمد

صدر سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر آصف زرداری سے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اسلام آباد میں ہفتے کی شب ملاقات کی جس میں پاک ۔ برطانیہ تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں آصف زرداری اور ڈیوڈ کیمرون نے اقتصادی تعاون سمیت دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔ برطانوی وزیراعظم نے صدر مملکت کو احسن طریقے سے حکومت کی تبدیلی پر مبارکباد بھی دی۔

برطانوی وزیراعظم افغانستان کے غیر علانیہ دورے کے بعد ہفتے کے روز جڑواں شہر راولپنڈی میں نور خان ائیر بیس پہنچے تو وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے ان کا استقبال کیا۔ برطانوی وزیر اعظم اتوار کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف، فوجی حکام اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کریں گے اور اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے ڈیوڈ کیمرون کی پاکستان آمد کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کے دورے کا وقت بہت اہم ہے اور پاکستان کی نئی حکومت کو اس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں تجارت مین بھی اضافہ ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر وہاں کہ لوگوں سے سرمایہ کاری بھی متوقع ہے، مسٹر کیمرون سے اس پر بھی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ کیمرون پہلے سربراہ مملکت ہیں جو نئی حکومت کی تشکیل کے بعد یہاں آٗئے ہیں اور امید ہے کے اس سے حالات مزید بہتر ہوں گے۔‘‘

ڈیوڈ کیمرون اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کے ساتھ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے علاوہ خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سے متعلق بات چیت کریں گے۔ ڈیوڈ کیمرون اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کے ساتھ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے علاوہ خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سے متعلق بات چیت کریں گے۔

اس سے قبل بر طانوی وزیر اعظم نے اپریل 2011ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے امداد کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کو 1.9 ارب پونڈ سالانہ سے بڑھا کر 2015ء تک 2.5 ارب پونڈ سالانہ تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا۔

سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اور پاکستانی قیادت کے درمیان بات چیت میں افغانستان میں قیام امن کے لیے جاری کوششوں کا بھی ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان افغانستان میں دیرپا امن واستحکام کے خواہاں ہیں اور اس بارے میں دونوں ممالک کے خیالات میں ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے۔ سرتاج عزیز نے مزید کہا: ’’یہ ایک بہت اچھا موقع ہے کہ اس وقت اعلی سطح پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اس وقت دوحہ میں بات چیت کا عمل کیسا چل رہا ہے اور 2014ء کے بعد افغانستان میں جو حالات ہوں گے اس میں سب مل کر کس طرح امن و استحکام لا سکتے ہیں۔‘‘

برطانوی وزیراعظم ڈیو ڈ کیمرون اپنے دورے کے دوران وہ پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم نوزشریف کے علاوہ فوجی حکام اور سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ڈیوڈ کیمرون اپنے دورے کے دوران پاکستانی بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم اسلام آباد میں قیام کے دوران طلباء سے بھی خطاب کریں گے جس کے بعد وہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے بھی ملاقات کی ہے۔ ہفتے کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر نے ڈیوڈ کیمرون کے دورہ پاکستان کے موقع پر سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کرنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔ بیان کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ نے برطانوی حکومت کو غیر قانونی تارکین وطن، انسداد منشیات، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔