.

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ڈرون حملہ، 17 افراد جاں بحق

نواز حکومت کے دور میں یہ دوسرا امریکی ڈرون حملہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کی شب پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان امریکی جاسوس طیاروں کے ڈرون حملوں میں سترہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق شمالی وزیر ستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں واقع ایک گھر پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکی جاسوس طیاروں نے چار میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں سترہ مشتبہ جنگجو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعے میں دیگر متعدد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ان ڈرون حملوں سے قبل علاقے میں ڈرون طیاروں کی پروازیں دیکھی گئی تھیں، جس کے باعث علاقے کے لوگوں میں کافی خوف وہراس پیدا ہوگیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرون پروازیں حملے بعد بھی جاری رہیں۔

حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک کمپاؤنڈ اور ایک گاڑی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے باعث کمپاؤنڈ اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مقامی ہسپتال پہنچایا۔

پاکستان میں میاں نواز شریف کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی ڈرون حملوں کو ملکی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ نواز شریف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) پاکستان میں دائیں بازو کی ایک بڑی سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس جماعت کے انتخابی نعروں میں سے ایک ڈرون حملوں کو رکوانا بھی تھا۔

نواز شریف حکومت کو اس حوالے سے فوری طور پر اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب اس کے اقتدار سنبھالنے کے محض دو روز بعد ہی ملک میں ایک اور ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ سات جون کو ہونے والے اس ڈرون حملے میں سات شدت پسند جان بحق اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ یہ ڈرون حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں کیا گیا تھا۔