.

"سافٹ بارڈرز": بھارت نے نئی حکمت عملی تیار کر لی

بھارتی ناریوں کو پاکستانی اور بنگالی فوجیوں کے سامنے کھڑا کیا جائیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت جس نے گزشتہ دہائیوں میں اپنے ہمسایہ ممالک خصوصا پاکستان کے ساتھ ملی سرحدوں کی غیر معمولی نگرانی کے لیے آہنی جنگلوں، اونچی چیک پوسٹوں، دور مار سرچ لائتس اور جدید کیمروں کی تنصیب اور جنگجو مرہٹہ سپاہیوں کی تعیناتی کے اہتمام کی حکمت عملی اختیارکر رکھی تھی اب اس میں قدرے تبدیلی کرتے ہوئے اپنی فوجی تاریخ میں یہ پہلی بار فیصلہ کیا ہے کہ بھارتی ناریوں کو بھی بھارتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس امر کا بظاہر فیصلہ اب کیا گیا ہے تاہم اس نازک دفاعی حصار اصولی فیصلہ اسی وقت ہو گیا تھا جب سن 2009 ميں بھارتی بارڈر سکيورٹی فورس نے خواتين اہلکاروں کی بھرتی شروع کی تھی۔ کیونکہ سرحدی حفاظت کے لیے مخصوص پیرا ملٹری فورس میں خواتین کی بھرتی بجائے خود ایک اشارہ تھا کہ آئندہ بھارت سرحدی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا گر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پريس ٹرسٹ آف انڈيا [پی ٹی آئی] کے مطابق اس حکومتی فيصلے کے تحت پچيس سال يا اس سے کم عمر کی خواتين کو ’ايسسٹنٹ کمانڈنٹس‘ کے عہدوں پر فائض کيا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے مطابق پچیس سال سے کم عمر کی ان نوجوان بھارتی خواتين افسروں کو پاکستان اور بنگلہ ديش کی سرحدوں پر تعينات کيا جائے گا، جہاں وہ اپنے دستوں کی کمان سنبھاليں گی اور روز مرہ کے دو طرفہ دفاعی معاملات کےحوالے سے پاکستانی اور بنگالی مرد افسروں کے ساتھ "ڈیل" کریں گی ۔

بھارت کے ايک سينيئر سکيورٹی ذمہ دار نے خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو بتايا کہ خواتين افسروں کی اس مقصد کے لیے بھرتی کا کام رواں برس کے اختتام تک مکمل کر ليا جائے گا جبکہ اگلے سال کے اختتام تک ان کی تعيناتی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اہلکار کے مطابق يہ پہلا موقع ہو گا کہ جب خواتين کو بارڈر سکيورٹی فورس ميں افسروں کے حيثيت سے بھرتی کيا جائے گا۔ اہلکار کے مطابق خواتين کو قيادت سونپنے اور لڑاکا پوزيشنز پر تعينات کرنے کے اس اقدام کے ذريعے يہ پيغام عام ہو گا کہ خواتین کسی بھی ميدان ميں مردوں سے کم نہيں۔

مبصرین کے مطابق اس غیر روائتی بھارتی فیصلےسے دو طرفہ سرحدوں کو نرم کرنے میں بھارت کو مدد ملے گی، بطور خاص پاک سرحد جہاں پاکستانی رینجرز کے جوان صبح شام پرچمی تقریبات میں تنومندی کا مظاہرہ کرکے پاکستانی عوام سے داد حاصل کرتے ہیں اب ان کے سامنے نوجوان بھارتی خواتین مد مقابل کے طور پر کھڑی ہوں گی تو بھی پاکستانی عوام کی داد کا سلسلہ جاری رہ سکے گا یا بارڈرز واقعی 'سافٹنیس' کی چغلی کھائیں گے۔