.

امریکا کی اسامہ تک رسائی سے متعلق ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ

"خالد عطاش کی گرفتاری اسامہ کی تلاش کا نقطہ آغاز بنی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سابق سربراہ اور امریکا کو سب سے زیادہ مطلوب شخص اسامہ بن لادن کی پاکستان کے گریژن سٹی ایبٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لئے پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ انتہائی مطلوب شخص سے متعلق معلومات کے ایسے خزانے پر مشتمل ہے، جس کے خدوخال میڈیا رپورٹس میں چھن چھن کر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن مقامی انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی نااہلی کے باعث پاکستان میں طویل عرصے تک چھپا رہا۔

اسامہ بن لادن کو پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں دو مئی 2011ء کو امریکی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ لادن کا اس کی سرزمین پر پایا جانا پاکستان کے لیے بدنامی کا باعث بنا تھا۔ پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک آزاد تحقیق کا مطالبہ کیا تھا جس پر سابقہ حکومت نے ایک عدالتی کمیشن قائم کر دیا تھا۔

اس کمیشن نے لادن کی تین بیواؤں کو پاکستان سے بیدخل کیے جانے سے قبل ان سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ اعلیٰ سویلین اور عسکری اہلکاروں کے انٹرویو بھی کیے تھے۔اس حوالے سے کمیشن نے رپورٹ مرتب کی تھی جو خفیہ رکھی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس رپورٹ کے نتائج پاکستان کے انٹیلیجنس اور عسکری حکام کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث بنیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’’حکومت کی تقریبا تمام سطحوں پر پائی جانے والی قابلِ تعزیر لاپرواہی اور نااہلی شاہدین کی گواہیوں کی روشنی میں قطعی طور پر ظاہر ہے۔‘‘

کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے موجودہ یا سابق اہکاروں کے شریک جرم ہونے کے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں ملا لیکن ’معقول طور پر قابلِ تردید معاونت‘ کا امکان بھی ردّ نہیں کیا جا سکتا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا: ’’آئی ایس آئی جیسے ادارے کے لیے، لاپرواہی اور نااہلی سرکش عناصر کی جانب سے ممکنہ چشم پوشی سے کہیں بڑھ کر سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں۔‘‘

یہ رپورٹ 336 صفحات پر مبنی ہے جس میں افغانستان پر 2001ء کے امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادین کی روز مرہ زندگی کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق وہ 2002ء کے موسمِ گرما میں پاکستان پہنچا تھا۔ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے کے ساتھ ساتھ سوات اور ہری پور کے اضلاع میں بھی رہا اور اگست 2005ء میں ایبٹ آباد منتقلی سے پہلے ممکنہ طور پر دیگر مقامات پر بھی چھپا رہا۔

لادن کی معاونت کرنے والے دو پاکستانیوں میں سے ایک کی بیوہ کے مطابق ایک مرتبہ انہیں بن لادن کے ساتھ سوات میں گاڑی تیز چلانے پر روکا بھی گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس خاتون نے بتایا تھا کہ اس کے شوہر نے پولیس اہلکاروں سے فوراﹰ ہی معاملہ کر لیا تھا۔

بن لادن کی بیواؤں کی گواہی کے مطابق وہ ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں گھومتے ہوئے شناخت سے بچنے کے لیے کاؤبوائے ہیٹ پہنتا تھا جبکہ بیماری کی صورت میں روایتی عرب دواؤں سے اپنا علاج کرتا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق خلاف معمول باتوں پر دھیان دیا جاتا تو ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ کی حقیقت سامنے آ سکتی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی کارروائی ایک جنگ تھی جو 1971ء میں سابق مشرقی حصے کی علیحدگی کے بعد پاکستان کے لیے سب سے بڑی شرمندگی بنی۔