.

پاکستان میں کئی برسوں بعد ایک ہی دن سے رمضان کا آغاز

قبائلی بیلٹ کی ایجنسیوں کا روزہ افغانستان کیساتھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رمضان المبارک کی آمد بجائے خود خوشیوں اوربرکتوں کے جلو میں ہوتی ہے لیکن پورے پاکستان میں ہلال رمضان کا ایک ہی شام نظرآنا ایک ایسی خوشی ہے جواہل پاکستان کو کئی برسوں بعد ملی ہے۔ تاہم ناراض قبائلیوں کے خیبر اور مہمند ایجنسی، ایسے علاقے ہیں جہاں کے لوگوں نے پہلا روزہ افغانستان کے ساتھ رکھنا پسند کیا ہے۔

دلچسپ بات ہے افغانستان کےعوام سابق بادشاہ ظاہر شاہ کے زمانے سےایک سرکاری فیصلے کےتحت سعودی عرب کے ساتھ رمضان کا استقبال اورعیدالفطرمناتے چلے آ رہے ہیں اورنائن الیون کے بعد کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے جنگی لپیٹ میں آنے کے بعد یہاں کے لوگ ہلال رمضان اور ہلال عید کےمعاملے میں افغانستان کے ساتھ ہوگئے ہیں اور انہوں نے ایسے وقت میں بھی پاکستان کے چاند سے الگ چاند کو چاہا ہے جب مفتی شہاب الدین پوپلزئی بھی مسجد قاسم علی خان سمیت سرکاری رٶیت ہلال کے ساتھ ہم آہنگ نظرآ رہے ہیں۔

مفتی پوپلزئی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ''خیبرایجنسی اور مہمند ایجنسی کے لوگوں میں امریکی جنگ کا ردعمل ہے اس لیے ان کی طرف رمضان کا آغاز کسی روئت ہلال کی شرعی شہادت کی وجہ سے ایک روز پہلے نہیں ہوا بلکہ امریکی جنگ کی وجہ سے ہوا ہے''۔

مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا تھا: ''مسجد قاسم علی خان کے بدھ کےدن سے روزہ نہ ہونے کی محض وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ ایسی ٹھوس شرعی شہادت سامنے نہیں آئی تھی۔ اس لیے ہم پورے ملک کے ساتھ روزہ رکھیں گے''۔ ان کا کہنا تھا ''سنہ 1825ء سے مسجد قاسم علی خان کی شرعی شہادتوں کی بنیاد پرروئت کا نظام موجود ہے۔ اسے کسی مسلک، جماعت یا مفتی کی ذات سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔ ''

انہوں نے کہا کہ شرعی شہادت نہ ملنے کے بعد یہ امکان بہرحال پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان کی سرکاری روئت ہلال کمیٹی اور نئی حکومت چاہے تو روئت کے اس غیر ضروری اختلاف کو طے کیا جا سکتا ہے، خصوصا جب اس معاملے پر سینیٹ کمیٹی میں بھی کافی تجاویز زیر بحث آ چکی ہیں۔ اگرمذہبی امور کی وزارت اس معاملے میں دلچسپی لے تو صوبہ خیبر پختونخوا میں برسر اقتدارتحریک انصاف، جماعت اسلامی اور سابق وزیراعلی آفتاب شیرپاو کی جماعت یہ مسئلہ حل کرکے قوم کو متحد کرسکتی ہیں۔