الطاف حسین سے منی لانڈرنگ اور تشدد بھڑکانے کے الزامات کی تفتیش

"پاکستانی نژاد برطانوی شہری لندن سے سیاسی جماعت چلاتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے چار لاکھ پاؤنڈ مالیت کی منی لانڈرنگ اور تشدد بھڑکانے کے الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے- یہ بات برطانوی ٹیلیویژن بی بی سی 2 کے پروگرام نیوز نائٹ میں بتائی گئی-

معاصر عزیز اخبار 'ڈان' کے مطابق یہ خبر ایم کیو ایم کے حوالے سے نیوز نائٹ کے لئے بنائی گئی ایک مختصر ڈاکومنٹری کا حصہ تھی جس میں وہ ویڈیو کلپس بھی شامل تھیں جن میں الطاف حسین تشدد آمیز بیانات دے رہے ہیں- ساتھ ہی پارٹی کے مقتول رہنما عمران فاروق کے قتل کا خاکہ، ایم کیو ایم کے ایک سابق رہنما کا انٹرویو، ایک پولیس والے کی طرف سے پارٹی پر قتل کے الزامات، اور پارٹی لیڈر فاروق ستار کا انٹرویو بھی اس ڈاکومنٹری میں شامل تھا-

پروگرام کی ابتدا میں الطاف حسین کا ایک کلپ، جس میں وہ یہ بولتے نظر آ رہے ہیں "ہم تمہارے لئے بوریاں تیار کر رہے ہیں" دکھانے کے بعد پروگرام کے میزبان، جیریمی پیکسمین نے یہ سوال اٹھایا کہ "کیا ہم (برطانیہ) ایک ایسی تنظیم کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہے ہیں جو اس سرزمین کو دوسروں کو ڈرانے اور اذیت دینے کے لئے ایک بنیاد کے طور پر استعمال کر رہی ہے؟"

اس کے بعد انہوں نے ایم کیو ایم کو "پاکستان میں سب سے زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی جماعتوں میں سے ایک" کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ الطاف حسین پر قتل کے 30 الزامات ہیں جن کو وہ مسترد کرتے ہیں-

اس کے بعد پروگرام میں ایم کیو ایم کے سربراہ کا گھر دکھایا گیا جہاں پر رپورٹر اووین بینیٹ جونز نے نشاندہی کی کہ اس مکان پر مہینے کے شروع میں پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں چھاپہ مارا تھا- الطف حسین کے حوالے سے رپورٹر نے کہا "وہ لندن میں رہتے ہوئے اپنی پاکستانی پارٹی کا مکمل کنٹرول سنبھالتے ہیں-"

نیوز نائٹ کے مطابق، "پولیس نے لاکھوں کے حساب سے نقد پاؤنڈز برآمد کئے ہیں جس کے نتیجے میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے تفتسش کی جا رہی ہے-" میٹروپولیٹن پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ "آیا وہ لندن کو پاکستان میں تشدد بھڑکانے کے لئے تو استعمال نہیں کر رہے اور یہ کہ کیا ان کی تقاریر، قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتیں-"

بی بی سی ٹو کی ڈاکومنٹری میں لندن میں بیرسٹرعلی نسیم باجوہ کا انٹرویو بھی پیش کیا گیا، ان کے مطابق الطاف حسین کی تقریریں ممکنہ طور پر "دہشت گردی کے جرم" کے زمرے میں آتی ہیں- انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی، چاہے وہ سیاسی وجوہ کی بناء پر دی جائے یا حکومت پر اثر انداز ہونے کے لئے دی جائے، سب ہی باتیں ایم کیو ایم کے سربراہ کے معاملے میں لاگو ہوتی ہیں-

پروگرام میں اس کے بعد ایم کیو ایم کے لیڈر فاروق ستار کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا "میں خاص طور پر اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ الطاف حسین نے کبھی ایسی بات کی ہے جیسا کہ آپ کہ رہے ہیں-" یہ بات انہوں نے رپورٹر کی جانب سے ایم کیو ایم کے سربراہ پر دھمکی آمیز زبان کے استعمال کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہی- تھوڑی دیر بعد بی بی سی کے اسی پروگرام میں مسٹر ستار کو ان سامعین میں بیٹھے دکھایا گیا جو الطاف حسین کو "پیٹ پھاڑنے کی باتیں کرتے سن رہے تھے"-

پروگرام میں ایم کیو ایم کے ایک سابق ممبر کا انٹرویو بھی نشر کیا گیا جو کہ ان کے بقول پارٹی کے واحد چلتے پھرتے سابق ممبر ہیں- یہ سابق ممبر نسیم احمد کھل کر سامنے آئے اور انہوں نے کہا "یہ ایک پرامن جماعت نہیں، یہ ایک ملٹری گروپ ہے، یہ مافیا کے لوگوں کا ایک گروہ ہے، یہ تشدد کے لئے ایک آئیڈیل جماعت ہے-"

انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے نام پر تشدد کی کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والے آس پڑوس کے نوجوانوں سے جب وہ ان حرکتوں کی وضاحت طلب کرتے تو انھیں صاف جواب ملتا تھا "ہمیں لندن سے احکامات ملتے ہیں-"

اس کے بعد پروگرام میں ایک ایسے پاکستانی پولیس اہلکار کو دکھایا گیا جسے ایم کیو ایم اور طالبان سے دھمکیاں ملنے کے بعد یورپ میں پناہ مل گئی ہے- پروگرام میں اس شخص کی حفاظت کے پیش نظر، اس کا نام اور آواز تبدیل کر دی گئی تھی جبکہ اس کا چہرہ بھی دھندلا دکھایا گیا تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے- اس پولیس اہلکار نے بتایا کہ جب اس نے پارٹی کے لئے کام کرنے والوں کو پکڑا تو اسے ایم کیو ایم کی جانب سے نہ صرف جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں بلکہ اس کے بیس ساتھی پولیس والوں کو مار بھی دیا گیا-

جرائم ثابت ہونے کی کم شرح کے حوالے سے انہوں نے کہا "کوئی بھی ایم کیو ایم کے خلاف گواہی دینے کو تیار نہیں، اور اگر کوئی کوشش بھی کرتا ہے تو ایم کیو ایم اسے ہی نہیں اس کے خاندان کو بھی مار دیتی ہے-"

ڈاکومنٹری کے بیانئے میں بتایا گیا کہ بیس سالوں سے پاکستانی رہنما لندن سے الطاف حسین کو کنٹرول کرنے کا که رہے ہیں- پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایم کیو ایم کے مطابق جب بھی انھیں برطانیہ کے ویزوں کی ضرورت پڑتی ہے، وزارت داخلہ بغیر کسی مشکل کے انھیں ویزے جاری کر دیتی ہے-

نیوز نائٹ نے اس کے بعد ہاؤس آف لارڈز کے دو ممبران کا بھی حوالہ دیا جن میں سے ایک تو اس بات پر خوفزدہ ہیں کہ اگر وہ کراچی گئے تو وہ قتل کر دیئے جائیں گے کیونکہ وہ کھل کر ایم کیو ایم کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ دوسری ممبر نے کہا کہ وہ پارٹی کے بارے میں زیادہ سوالات نہیں کرتیں کیونکہ پروگرام کے مطابق "ان کا ایک بچہ ہے جس کی انھیں زیادہ فکر ہے-"

بی بی سی ٹو کے پروگرام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے لندن کے نرم رویے کی ایک ممکنہ وجہ، 9/11 واقعے کے چند ہفتوں بعد ایم کیو ایم کے سربراہ کی جانب سے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں جہادی نیٹ ورکس کے حوالے سے انسانی خفیہ معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی-

سالوں تک وزارت خارجہ کی طرف سے ایسے کسی خط کی صداقت سے انکار کے بعد، نیوز نائٹ نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے مطابق، اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ خط یقیناً 10 ڈاؤننگ سٹریٹ بھیجا گیا تھا جسے بعد میں وزارت خارجہ بھجوا دیا گیا-

پروگرام کے آخری پانچ منٹوں میں میزبان جیریمی پیکسمین کو فاروق ستار کا انٹرویو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جنہوں نے اپنی پارٹی کا دفاع ان الفاظ میں کیا "بی بی سی ایک معتبر ادارہ ہے لیکن لگتا ہے کہ اس پروگرام کی تیاری کے دوران طالبان کے حامی اور بنیاد پرست قوتیں اس پر اثر انداز ہوئی ہیں-"

جب ان سے بوریوں کی تیاری کے حوالے پارٹی کے صدر کے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا "لوگ ہنس رہے تھے- یہ ایک سیکولر مڈل کلاس کی نمایندگی کرنے والی جماعت کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ اور میڈیا ٹرائل ہے جو کہ سٹیٹس کو کے علمبرداروں اور بدعنوان افراد کی طرف سے ایم کیو ایم کے خلاف کیا جا رہا ہے کیونکہ ایم کیو ایم سیکولر اور محنت کش طبقے کی پارٹی ہے-"

انہوں نے یہ بھی کہا کہ "میں دوٹوک انداز میں اس بات سے انکار کرتا ہوں اور اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ اس بات کا کوئی بھی ثبوت ہے کہ کسی کو مارنے یا قتل کرنے کے احکامات لندن سے وصول ہوتے تھے-"

جب ان سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انھیں علم نہیں کہ کتنی رقم برآمد کی گئی ہے- [پیکسمین کے مطابق الطاف حسین کے دفتر سے ڈیڑھ لاکھ جبکہ ان کے گھر سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈ برآمد ہوئے تھے-]

فاروق ستار نے مزید کہا "میں مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا- جب کبھی کسی عدالت یا باقاعدہ تفتیش میں پوچھا جائے گا تو میں جواب دوں گا- میں نہیں چاہتا کہ یہ معاملہ میڈیا ٹرائل کی شکل اختیار کر لے، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو، یہ معاملہ زیر تفتیش ہے لہٰذا تفتیش کو مکمّل ہونے دیا جائے-"

جب فاروق ستار نے کہا کہ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، کوئی چارج نہیں لگایا گیا اور اب تک کوئی کورٹ کیس بھی پیش نہیں کیا گیا تو پروگرام کے میزبان پیکسمین نے اضافہ کیا "اب تک-"

منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر ستار نے کہا "آپ کو کچھ بھی کہنے کا حق ہے، لیکن آپ اس معاملے کے جج نہیں- آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ چھاپے کے دوران اگر کچھ رقم برآمد ہوئی ہے تو آپ براہ راست یہ نہیں کہ سکتے کہ اس رقم کا حصول مجرمانہ طریقے سے ہوا تھا-"

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات میں بھرپور تعاون پر آمادہ ہے لیکن انھیں پارٹی کے طریقہ کار پر تفتیش کے حوالے سے تحفظات ہیں-

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں