وزیرستان: مردوں کے چست اور باریک کپڑے پہننے پر پابندی

غیرساتر لباس فروخت کرنے والوں کو اٹھا لینگے، طالبان کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستانی طالبان نے رمضان المبارک کے دوران مردوں پر چست لباس کے علاوہ ایسا لباس پہننے پر پابندی عائد کردی ہے جو باریک کپڑے سے بنا ہو اور اس کے پہننے کے باوجود انسانی جسم کی بے پردگی ہوتی ہو۔

سعودی دارالحکومت سے شائع ہونے والے ایک اہم روزنامے نے وزیرستان سے موصولہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ "مقامی طالبان نے دکانداروں کو بھی تحریری طور پر انتباہ کیا ہے کہ اگر کوئی دکاندار اس قسم کا لباس فروخت کرتا ہوا نظر آیا تواسے پانچ سو امریکی ڈالر جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اخباری رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان طالبان نے علاقے میں درزی کا کام کرنے والوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ کسی نے ایسے غیر اسلامی لباس کی سلائی کی تو اسے مار پیٹ کرنے کے علاوہ اغوا بھی کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے طالبان نے خواتین کو ایسی کوئی دھمکی نہیں دی ہے کیونکہ قبائلی علاقوں کی خواتین ایسا روائتی لباس پہننا پسند کرتی جو پوری طرح ساتر ہوتا ہے۔

یاد رہے 2011 میں طالبان کے ایک گروپ نے وزیرستان میں ایسی دکانوں پر چھاپے مارے تھے جو ان کے مطابق غیر اسلامی ملبوسات کی فروخت میں ملوث تھے۔ اس موقع پر مبینہ طور پر ہزاروں میٹر کپڑا دکان سے اٹھا کر جلا دیا گیا تھا جس سے غیر اسلامی ملبوسات تیار کیے جانے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں