.

وزیر اعظم پاکستان کا آئی ایس آئی کے مرکزی دفتر کا دورہ

نواز شریف اور ان کی ٹیم کو سیکیورٹی امور پر طویل بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یہ پہلاموقع ہے کہ میاں نواز شریف ملک کی سب سے اہم خفیہ ایجنسی کے ہیڈ کواٹرز کا دورہ کیا اور وہاں پانچ گھنٹے گزارے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکام نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

وزیر اعظم کے اس دورے کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔ تاہم مقامی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس اہم بریفنگ میں وزیر داخلہ چوہدر ی نثار علی خان، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، وزیرا عظم کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔

وزیرا عظم کو اس دورے کی دعوت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام نے دی تھی۔ جنرل ظہیرالاسلام اور ان کی ٹیم نے وزیراعظم کو سکیورٹی کی صورتحال، دہشتگردی، انتہا پسندی سمیت ملک کو داخلی اورخارجی سطح پر درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو یہ بریفنگ ایک ایسے موقع پر دی گئی ہے، جب اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں قائم کمیشن کی لیک کی گئی رپورٹ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں ہے۔ اس رپورٹ میں بن لادن کی موجودگی کو فوج، قانوں نافذ کرنیوالے اداروں اور آئی ایس آئی سمیت خفیہ ایجنسیوں کی "نالائقی" قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس رپورٹ کے افشا کیے جانے کی تحقیقات کا اعلان بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جسے بعدازاں ’’دباؤ‘‘ کے سبب چوبیس گھنٹوں میں واپس لینا پڑا تھا۔