.

پاکستان مِیں نئے صدارتی انتخاب کی تیاری شروع؟

انتخابی شیڈول کے لیے قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں منتخب صدر آصف علی زرداری کی مدت صدارت 9 ستمبر کو ختم ہونے سے پہلے نومنتخب حکومت نے نئے صدر کے انتخاب کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں پہلی سرگرمی قومی اسمبلی کےسیکرٹیریٹ کے توسط سے اس وقت سامنے آئی جب ایک خط الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھا گیا کہ ''الیکشن کمیشن نے آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے جو شیڈول تیار کیا ہے اس سے آگاہ کیا جائے ، تاکہ قومی اسمبلی کے ارکان کو پیشگی بتا کر صدارتی انتخاب کے متوقع موقع پر دستیاب رہنے کے لیے کہا جا سکے''۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ابھی باضابطہ طور پر قومی اسمبلی کا ایسا کوئی خط مو صول نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی حتمی یا باقاعدہ بات چیت الیکشن کمیشن میں زیر بحث آئی ہے۔ البتہ ای سی پی میں گزشتہ ماہ انتظامی سطح پر غیر رسمی انداز میں صدارتی انتخاب کے شیڈول پر غور ضرور ہوا تھا۔ جس میں ایک تجویز یہ تھی کہ صدارتی انتخاب ماہ اگست میں ہی کرا لیا جائے، جبکہ دوسری تجویز یہ پیش کی گئِ کہ صدارتی انتخاب ماہ ستمبر کے شروع میں منعقد کرایا جائے، تاہم کوئی حتمی سفارش سامنے نہ آئی تھی۔

ان ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم سولہ جولائی تک بیرون ملک ہیں۔ ان کی وطن واپسی پر ہی قومی اسمبلی کے خط کا جواب دیا جا سکے گا۔ دوسری جانب نو منتخب حکومت کے سامنے نئے صدر کے انتخاب تک گورنروں کی تبدیلی کو موخر رکھنے کی ایک تجویز بھی زیر غور ہے۔

دلچسپ بات ہے صدر مملکت نجی دورے پر ہیں اور ان کی جگہ نئے صدر کے باضابطہ انتخاب کا شیڈول مانگا گیا ہے۔ تاہم غالب امکان یہی ہے کہ جمہوری حکومت کی طرح اس مرتبہ منتخب صدر بھی اپنی مدت پوری کریں گے۔