.

امریکی جاسوسی طیارے کے حملے میں 2 مشتبہ غیر ملکی ہلاک

تیسرے روزے کے دن حملے سے رمضان المبارک کا تقدس پامال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمال مغربی پاکستان میں افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ہفتے کی رات ایک امریکی ڈرون حملے میں دو مشتبہ غیر ملکی عسکریت پسند ہلاک ہو گئے اور چند قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ سے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں مقامی حکومت کے اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مارے جانے والے دونوں جنگجو ایک موٹر سائیکل پر سوار کہیں جا رہے تھے اور ان کا تعلق مبینہ طور پر وسطی ایشیا کی جمہوریہ ترکمانستان سے تھا۔ تاہم ہلاک شدگان کی قومیتوں کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ میران شاہ سے قریب 35 کلو میٹر مشرق میں واقع قصبے میر علی کے نواح میں ایک گاؤں میں کیا گیا۔ شمالی وزیرستان پاکستان کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک ایسا نیم خود مختار پاکستانی قبائلی علاقہ ہے، جہاں پاکستانی طالبان اور ان کے حامی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے قربت رکھنے والے عسکریت پسندو‌ں کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ خاصے فعال ہیں۔

میران شاہ ہی میں ایک دوسرے مقامی سکیورٹی اہلکار نے بھی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ بات چیت میں تصدیق کی کہ اس امر کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس حملے میں مارے جانے والے دونوں عسکریت پسندوں کا تعلق ترکمانستان سے تھا۔
ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں شدید احتجاج کیا جاتا ہے

بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے اور میزائلوں سے لیس امریکی ڈرون طیاروں سے کیے جانے والے حملے پاکستان میں بہت غیر مقبول ہیں لیکن واشنگٹن حکومت انہیں طالبان اور القاعدہ کے خلاف اپنی جنگ میں ایک مؤثر ہتھیار تصور کرتی ہے۔

پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر ایسے حملوں کے خلاف کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے اور ان کی مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد میں متعین امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو احتجاج کے لیے کئی بار دفتر خارجہ میں بھی طلب کیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد حکومت کا مؤقف ہے کہ ملکی سرزمین پر ایسے امریکی حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈرون حملے میں موٹر سائیکل پر سوار مشتبہ غیر ملکی عسکریت پسندوں پر دو میزائل فائر کیے گئے۔

ہفتے کی رات کیا جانے والا یہ حملہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف اس مہینے کیا جانے والا دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ پہلا حملہ بھی شمالی وزیرستان ہی میں کیا گیا تھا، جس میں 16 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔