پاکستان: سزائے موت کے فیصلوں پر عمل نئے صدارتی انتخاب تک مشکل

قائم مقام صدر کے عجلت میں کیے گئے فیصلے چیلنج ہو سکیں گے: ماہرین قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قتل ،اغواء اور دیگر سنگین الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزاوں پرعمل درآمد موخر رکھنے کے سابقہ حکومت کے حکم کی مدت 30 جون کو ختم ہونے کے باوجود موجودہ صدارتی مدت کے دوران 'رحم کی اپیلوں' پر فیصلے ہونے کا امکان کم رہ گیا ہے۔ صدرکے نجی دورے پر بیرون ملک چلے جانے، عیدالفطر کی آمد اور عید سے امکانی طور پر پہلے ہی نئے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری ہو جانے سے رحم کی اپیلوں پر عمل مشکل امر ہو گا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق 30 جون کے بعد اگرچہ وزارت داخلہ میں 'رحم کی اپیل' کو ڈیل کرنے والے شعبے میں سرگرمی شروع ہو گئی ہے، لیکن آئندہ دنوں بھی اس امر کا امکان بہت کم ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کسی مجرم کی رحم کی اپیل مسترد کر کے اسے پھانسی لگانے کی اجازت دیں گے۔

وزارت داخلہ اور وزارت قانون میں اس حوالے سے دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ ایک جانب نئی حکومت نے سزاوں پر عمل درآمد نہ روکنے اور میرٹ کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا ہے تو دوسری جانب صدر مملکت کے بارے میں یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ اپنی بقیہ مدت صدارت امکانی طور پر ملک سے باہر ہی گزاریں گے۔

صدر آصف زرداری ملک اپنے دور صدارت کو پھانسیاں نہ دینے کے حوالے سے یاد گار بنانا چاہتے ہیں

یاد رہے ان دنوں نجی دورے پر صدر آصف زرداری ملک سے باہر ہیں۔ ان کے بارے عمومی خیال یہ ہے کہ وہ اپنے دور صدارت کو پھانسیاں نہ دینے کے حوالے سے یاد گار بنانا چاہتے ہیں، اس لیے رمضان کے اختتام سے قبل واپس آ بھی گئے تو یہ موقع عید الفطر کی خوشی میں قیدیوں کی سزائیں معاف کرنے اور انہیں چھوڑنے کا ہو گا نہ کہ سزائیں دینے کا، جبکہ اس کے ساتھ ہی نئے صدارتی انتخاب کا شیڈول سامنے آ چکا ہو گا ایسے میں صدر کے اندرونی مشیر اور بیرونی مہربان انہیں اس معاملے کو نہ چھیڑنے کا مشورہ دیں گے۔

وزارت داخہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت تقریبا آٹھ ہزار مجرمان ملک بھر کی جیلوں میں سزائے موت کے باعث بند ہیں، تاہم ان میں سے تقریبا ساڑھے چار سو کی رحم کی اپیلیں وزارت داخلہ میں التواء کا شکار ہیں۔ سابقہ حکومت کی پالیسی کے تحت رحم کی یہ اپیلیں قبول کی گئیں نہ مسترد ہوئیں۔ اس لیے ساڑھے چار سو کے قریب یہ اپیلیں روائتی سیاہ فائلوں میں لپٹی عین اسی کونے میں پڑی ہیں جہاں موجودہ صدر آصف علی زرداری کے سسر اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی بچانے کے لیے ملک غلام جیلانی اور سینکڑوں دیگر افراد کی طرف سے 1979 میں کیجانے رحم کی اپیلیں سیاہ فائل کورز میں مگر قدرے بوسیدگی کی زد میں پڑی ہیں۔ ان میں سے ملک غلام جیلانی کی طرف سے دائر کردہ اپیل پر جنرل ضیاءالحق کے دستخط اس انکار کے ساتھ ثبت ہیں ''پٹیشن مسترد کی جاتی ہے''۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس میں شبہ نہیں کہ سزائے موت کے قیدیوں کی'' سیاہ پوش'' فائلیں نئی حکومت کے بعد ایوان صدر جانا شروع ہو گئی ہیں لیکن ابھی عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری جانب ماہرین قانون سمجھتے ہیں کہ نیا صدر کے لیے انتخابی شیڈول قریب ہونے کے باعث قائم مقام صدر نے پانچ برسوں سے زیر التواء اس معاملے کوآنا فانا نمٹانا بھی چاہا تو اس پر قانونی سوال اٹھیں گے۔

وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون دان راشد حنیف کا کہنا ہے کہ اگر قائم مقام صدر نے عجلت میں رحم کی اپیلوں کے حق میں یا خلاف فیصلے کیے تو متاثرہ فریق عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق رکھیں گے کیونکہ صدارتی اختیار کے باوجود قائم مقام صدر کا فوری متحرک ہونا معاملے نزاکتوں کے منافی ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں