رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی کوئٹہ میں بے امنی کا راج

ایک ہی دن میں ہزارہ برادری کے چار افراد سمیت سات افراد قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیش آنے والے دو مختلف واقعات میں ہزارہ برادری کے چار افراد سمیت سات افراد جاں بحق ہو گئے۔

کوئٹہ کے علاقے مسجد روڈ پر پیر کی شام نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہزارہ برادری کے کم از کم چار افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ رات گئے پیش آنے والے فائرنگ کے ایک اور واقعے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس فیاض سنبل نے بتایا کہ چار مسلح افراد نے کوئٹہ علاقے مسجد روڈ کے قریب ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس سے گاڑی میں سوار چاروں افراد شدید زخمی ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ چاروں زخمیوں کا اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ دو زخمیوں نے راستے میں دم توڑ دیا جبکہ دو زخمی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

سنبل نے بتایا کہ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ واقعے کے بعد اطراف میں واقع کاروباری مراکز بند ہو گئے جبکہ لوگوں میں بھی شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ سی سی پی او میر زبیر محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ مقتول افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد کوئٹہ میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہلکاروں کی نفری بھی بڑھا کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ سنبل نے بتایا کہ جب ہلاک شدگان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اس وقت وہ اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہے تھے۔

پیر کو ہی پیش آنے والے ایک اور واقعے میں کوئٹہ کے علاقے خداداد چوک پر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے خداد چوک پر واقع کولڈ ڈرنک کی دکان پر فائرنگ کر دی جس سے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

زخمی ہونے والے پانچوں افراد کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تین افراد راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور واقعے کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ادھر ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی نے بدامنی کے ان واقعات کے خلاف منگل کے روز کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جبکہ تحریک نفاذ جعفریہ نے بلوچستان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں